تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 372
رہتا کہ نہ معلوم رَبّ کا لفظ یہاں جزوی معنوں میں استعما ل ہوا ہے یا اصل معنوں میں۔کیونکہ ماں باپ بھی رَبّ ہوتے ہیں۔استاد بھی رَبّ ہوتا ہے، بادشاہ بھی رَبّ ہوتا ہے، پھر پیر بھی ایک قسم کا رَبّ ہوتا ہے اور عربی زبان میں ان سب کے لئے رَبّ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔پس چونکہ یہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ نہ معلوم یہاں رَبّ کا لفظ جزوی معنوں میں استعمال ہوا ہے یا اپنے وسیع معنوں میں۔اس لئے خَلَقَ کا لفظ بڑھا کر بتادیا کہ ہم ربوبیت کو اس کے وسیع معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو اس رَبّ کا نام لے جس نے خَلَقَ کے مقام سے مخلوق کو اٹھا کر ترقی دینی شروع کی ہے۔ربّ کے معنے پید اکرکے آہستہ آہستہ ترقی تک پہنچانے والے کے ہوتے ہیں۔لیکن جزوی معنوں میں جب ربّ کا لفظ بولا جائے تو طبیعت میں ایک خلجان سا رہتا ہے کہ اس میں ربوبیت کی کس سٹیج کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔ابتدائی سٹیج کی طرف یا درمیانی یا آخری سٹیج کی طرف۔مثلاً جب ایک یہودی کسی عالم دین کو رَبِّیْ کہے گا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جس دن سے مجھے دین کی سمجھ آئی ہے اس دن سے یہ شخص مجھے دین کی باتیں بتانے والا اور میری روحانی رنگ میں پرورش کرنے والا ہے۔اگر دایہ کو کوئی رَبَّۃٌ کہہ دے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس وقت سے ربوبیت کرنے والی جبکہ میں پیدا ہوچکا تھا اور اس وقت تک اس کی ربوبیت رہی جب تک میں چلنے پھرنے لگا۔پس چونکہ ربوبیتیں مختلف ہوتی ہیں اس لئے یہاں الَّذِيْ خَلَقَ کا اضافہ کیا گیا۔باپ کی ربوبیت اغذیہ کے وقت سے ہوتی ہے، باپ گوشت اور سبزی ترکاری استعمال کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کا جسم ایک چیز تیار کرتا ہے جسے نطفہ کہتے ہیں۔پس باپ کی ربوبیت غذا کے زمانہ سے شروع ہوتی ہے۔اس کے بعد ماں کی ربوبیت نطفہ کے وقت سے شروع ہوتی ہے اور وہ بچے کو اپنے پیٹ میں پالنا شروع کردیتی ہے۔جب بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو وہ اسے دودھ پلاتی ہے اور اگر کسی بیماری کی وجہ سے وہ دودھ نہیں پلاسکتی یا اس کا دودھ نہیں ہوتا تو دایہ کی ربوبیت شروع ہوجاتی ہے۔پھر ہوش سنبھالنے کے بعد استاد کی ربوبیت کا وقت آجاتا ہے اور جب کچھ اور بڑا ہوتا ہے تو کوئی بڑا عالم اس کی تربیت شروع کردیتا ہے۔اس کے بعد جوان ہونے پر پیر کی ربوبیت کا وقت آجاتا ہے۔پھر بادشاہ انسان کی ربوبیت کرتا ہے۔غرض ربوبیت کی مختلف سٹیجز ہیں۔کوئی چھوٹی سٹیج ہے اور کوئی بڑی مگر بہرحال ان میں سے کسی ایک سٹیج کے لئے بھی ربّ کا لفظ بول لیا جاتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں الَّذِيْ خَلَقَ کا اضافہ کیا اور فرمایا کہ ہماری مراد اس سے وہ ربّ نہیں جن کی ربوبیت غذا کے وقت سے شروع ہوتی ہے وہ ربّ بھی مراد نہیں جن کی ربوبیت نطفہ کے وقت سے شروع ہوتی ہے، وہ ربّ بھی مراد نہیں جن کی ربوبیت پیدائش کے وقت سے شروع ہوتی ہے، وہ ربّ بھی