تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 371
آگیا جو اَشْھَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَہٗ لَا شَـرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُـحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ میں بیان کیا گیا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ تو دوسرے الفاظ میں اس کلمۂ شہادت کا اعلان کردیا گیا کہ اَشْھَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَہٗ لَا شَـرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُـحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ یعنی میں اس خدائے واحد کو تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں جس کا علم مجھے حاصل ہے اور جو صحیح اور سچا علم ہے۔میں اس کے نام پر تمہیں اس کی وحدانیت پر ایمان لانے کا پیغام دیتا ہوں۔اگر تم میری اس بات کو نہیں مانو گے تو اللہ تعالیٰ کے حضور مجرم اور گنہگار قرار پائو گے کیونکہ میں اس کا رسول ہوں اور میں اس کے نام پر کھڑا ہوا ہوں مجھے کہا گیا ہے کہ میں اس تعلیم کو چھپا کر نہ رکھوں بلکہ دنیا میں پھیلائوں اور ہر فرد کے کان تک اللہ تعالیٰ کی اس آواز کو پہنچائوں۔غرض پہلے دن ہی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کلمہ شہادت کو پوشیدہ رکھ دیا تھا اور بتادیا تھا کہ تو اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ہے دنیا میں یہ اعلان کر کہ تو خدا تعالیٰ کا رسول ہے۔تیرا نظریۂ ربوبیت الٰہی ہی سچا نظریہ ہے اور اس کلام کو دنیا تک پہنچانا تیرا فرض ہے۔اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ کے بعد الَّذِيْ خَلَقَ کے لانے میں حکمت یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ کے بعد الَّذِيْ خَلَقَ کے الفاظ کا اضافہ اللہ تعالیٰ نے کیوں کیا ہے؟ اگر خالی اتنا ہی کہا جاتا کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ تب بھی رب کے مفہوم میں خَلَقَ کے معنے آجاتے کیونکہ عربی زبان میں رب کے معنے اس ذات کے ہیں جو انسان کو پیدا کرکے اسے ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جاتی ہے۔پس چونکہ یہ مفہوم رب کے لفظ نے اد اکردیا تھا ا س لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ الَّذِيْ خَلَقَ کے الفاظ کا اضافہ اپنے اندر کیا حکمت رکھتاہے؟ عربی زبان میں لفظ رب کا استعمال اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گو ربوبیت کے معنے انسان کو پید اکرکے اسے ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جانے کے ہیں مگر یہ بھی ہر زبان میں قاعدہ ہے کہ کبھی الفاظ اپنے پورے معنوں میں استعمال نہیں ہوتے بلکہ جزوی معنوں میں بھی استعمال ہوجاتے ہیں۔چنانچہ باوجود ان معنوں کے عرب دوسروں کو بھی رَبٌّ کہہ دیا کرتے تھے۔مثلاً عربی زبان میں سردار کو بھی رَبٌّ کہہ دیتے ہیں اس لئے کہ جزوی طور پر وہ قوم کی ربوبیت کرتا ہے یا مثلاً رَبِّیْ کا لفظ عبرانی زبان میںعالم دین کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے(اقرب)۔اسی طرح ماں باپ اور استاد وغیرہ بھی ایک قسم کے رَبّ ہوتے ہیں کیونکہ وہ انسان کی جسمانی یا علمی تربیت کا موجب بنتے ہیں۔پس اگر صرف اتنا ہی کہا جاتا کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ تو انسانی ذہن اس طرف جاسکتا تھا کہ ممکن ہے رَبّ کا لفظ یہاں جزوی معنوں میں استعمال ہوا ہو اور اگر اس طرف ذہن نہ جاتا تو بہرحال ایک شبہ سا