تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 370

لے اور خوب اچھی طرح دنیا میں اس کا اعلان کر۔مگر میرے نزدیک یہاں باء زائدہ نہیں بلکہ استعانت کے لئے استعمال ہوئی ہے یعنی تو اپنے رب کے نام کی مدد کے ساتھ جس نے دنیا کو پیدا کیا ہے ایسا کر۔پولیس جب کسی کی خانہ تلاشی کے لئے آتی ہے تو کہتی ہے حاکم کے نام پر دروازہ کھولا جاتا ہے۔مطلب یہ ہوتا ہے کہ حاکم وقت نے ہم کو اتھارٹی AUTHORITY دی ہے جس کے ماتحت ہم یہ کام کررہے ہیں۔اگر تم ہمارے اس کام میں روک بنو گے تو حکومت کے مجرم قرار پائو گے۔چنانچہ پولیس اگر کسی چوری کی تفتیش کے سلسلہ میں کسی کے مکان کی تلاشی لینا چاہے اور مالک مکان انکار کردے تو اس پر مقدمہ دائر ہوجاتا ہے کہ اس نے سرکاری افسروں کے کام میں رکاوٹ ڈالی اور حاکم وقت کی اتھارٹی کے باوجود اپنے گھر کا دروازہ کھولنے سے انکار کردیا۔جس طرح دنیا میں پولیس حاکم وقت کی طرف سے اختیارات حاصل کرکے کسی کے مکان پر جاتی ہے اسی طرح فرماتا ہے اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ۔تو اپنے رب کے نام کے ساتھ دنیا میں کھڑا ہو اور ان سے کہہ کہ مجھے ان باتوں کے پہنچانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اگر تم انکار کرو گے تو تم میرا انکار نہیں کرو گے بلکہ اس خدا کا انکار کرو گے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس کے نام کے ساتھ تمہارے سامنے میں اپنی رسالت کا اعلان کررہا ہوں۔گو رَبِّكَ کا لفظ استعمال کرکے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقائد کی صحت کا اعلان کیا گیا وہاں بِاسْمِ رَبِّكَ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔رسول یہی کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا کیا گیا ہے اور میں اسی کے نام کے ساتھ اپنے دعاوی تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں۔غرض پہلی وحی میں ہی بِاسْمِ رَبِّكَ کہہ کر ایک طرف تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقائد کی درستی کا اعلان کردیا اور دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا بھی اعلان کردیا اور بتادیا کہ یہ جو کچھ کہتا ہے اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ ہماری طرف سے کہتا ہے۔اس تشریح کو ملحوظ رکھتے ہوئے اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ کے یہ معنے ہوں گے کہ تو اپنے اس رب کے نام کا جس کو صرف تو ہی اس زمانہ میں صحیح طور پر سمجھتا ہے دنیا میں اعلان کر اور لوگوں کو بتا کہ باقی تمام تشریحات رب کی اس کے مقابل میں باطل ہیں۔اسی طرح تو دنیا میں اس تعلیم کا اعلان کر جو ہم تجھ پر نازل کررہے ہیں کیونکہ یہ تعلیم صرف تیرے لئے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے۔یہ تعلیم لکھی جائے گی، پڑھی جائے گی اور بار بار پڑھی جائے گی۔پس تو ایک فرد کی حیثیت سے اس کو نہ پڑھ بلکہ اس حیثیت سے پڑھ کہ خدا نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں یہ تعلیم ساری دنیا کے سامنے پیش کروں۔ہم تیرے ساتھ ہیں اور ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تو ہمارا سچا رسول ہے۔گویا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ میں وہ تمام مفہوم