تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 362

تب یسوع نے اسے کہا اے شیطان دور ہوکیونکہ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور اس اکیلے کی بندگی کر۔‘‘ (متی باب ۴ آیت۱تا۱۰ ) دیکھو عیسائیوں کو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض تھا کہ آپ نے وحی الٰہی کے متعلق شبہ کا اظہار کیا مگر یہاں یہ لکھا ہے کہ شیطان حضرت مسیحؑ کو اپنے ساتھ لئے پھرا۔ہم یہ نہیں کہتے کہ واقعہ میں ایسا ہواہے ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ پر کامل یقین تھا تو انجیل کے بیان کے مطابق وہ شیطان کے پیچھے پیچھے کیوں بھاگے پھرتے تھے اور کیا وجہ ہے کہ جس طرف شیطان ان کی انگلی پکڑ کر لے جاتااسی طرف وہ نہایت اطمینان کے ساتھ چلنا شروع کر دیتے؟ بیت المقدس میں لے جاتا ہے تو وہاں چلے جاتے ہیں۔ہیکل کے کنگورے پر کھڑا کرتا ہے تو وہاں کھڑے ہو جاتے ہیں گویا جس طرح کوئی بے بس ہوتا ہے۔شیطان کی ہر بات مانتے چلے جاتے ہیں۔بہرحال عیسائیوں کودو باتوں میں سے ایک بات ضرور تسلیم کرنی پڑے گی۔یا تو ان کو یہ ماننا پڑے گا کہ یہ ایک ظاہری واقعہ ہے اور یا ان کو یہ ماننا پڑے گا کہ یہ ظاہری واقعہ نہیں بلکہ خواب ہے۔اگر اسے ظاہری واقعہ تسلیم کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیطان حضرت مسیحؑ کے پاس آیا کیوں؟ کیا وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے کو دھوکا دے سکتا تھا؟ اگر نہیں تو اس کا ظاہری صورت میں حضرت مسیحؑ کے پاس آنا بالکل بے معنی بات تھی جس کی کوئی بھی توجیہہ نہیں ہوسکتی۔ہاں اگر اس واقعہ کوحضرت مسیحؑ کی خواب قرار دے دیا جائے تو ایسا ہو سکتا ہے مگر اس صورت میں بھی یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کے دل میں یہ خیالات آنے شروع ہوگئے تھے کہ کیا مجھے شیطان کی طرف سے تو الہام نہیں ہوا۔حضرت مسیحؑ کا رؤیا کی حالت میں شیطان کے پیچھے چلنا اور اسے نہ دھتکارنا ان کے قلب کی اس حالت پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اس کے شیطان ہونے پر یقین نہ رکھتے تھے اور اس وقت تک شیطانی اور رحمانی رؤیا میں فرق نہیں کرسکتے تھے۔غرض انجیل کی آیات سے یہ امر ظاہر ہے کہ یسوع کو ایک کبوتری کے نظارہ میں پہلا جلوہ ہوا جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کامل القویٰ انسان کی شکل میں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آگ کی صورت میں۔پھر موسیٰ کا شک اور خوف بھی ثابت ہے اور مسیحؑ کا بھی۔کیونکہ شیطان کا ملنا اور مسیحؑ کا اس کے پیچھے جانا تردد اور شک پرہی دلالت کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ ان کے دل میں اس وقت تک الٰہی کلام پر وہ یقین اور وثوق پیدا نہیں ہوا تھا جو بعد میں جا کر پیدا ہوا۔پھر سوال یہ ہے کہ جب کبوتر کی شکل میں روح القدس نازل ہوا تو اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ انجیل میں صرف اتنا لکھا ہے ’’آسمان سے ایک آواز یہ کہتی آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں۔‘‘ (متی باب ۳ آیت ۱۷)