تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 358

قَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ۔مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پیدا ہوگیا ہے تو عیسائی یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو وحی الٰہی پر یقین نہیں تھا۔پھر لکھا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ جا اور اپنی قوم کو مصر سے نکال کر اس پہاڑ پر عبادت کرنے کے لئے لا۔مگر موسیٰ نے اس کا بھی انکار کیا۔چنانچہ لکھا ہے۔’’ تب موسیٰ نے جواب دیا اور کہا کہ دیکھ وے مجھ پر ایمان نہ لائیں گے نہ میری بات سنیں گے وہ کہیں گے کہ خداوند تجھے دکھائی نہیں دیا‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ جو بالکل عقل کے مطابق ہے اس کے متعلق تو عیسائی اعترا ض کرتے ہیں کہ آپ نے وحی الٰہی کے متعلق شک کا اظہار کیا۔مگر موسیٰ علیہ السلام کے متعلق نہیں دیکھتے کہ انہوں نے کس طرح اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کا انکار کیا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ اپنی قوم کو یہاں عبادت کرنے کے لئے لا۔اب بجائے اس کے کہ وہ اس حکم کی فوری طور پر تعمیل کرتے اللہ تعالیٰ سے یہ کہنے لگ گئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائیں گے نہ میری بات سنیں گے وہ کہیں گے کہ خداوند تجھے دکھائی نہیں دیا۔اس لیے میں ان کے پاس کس طرح جاسکتا ہوں۔’’تب خدا نے موسیٰ سے کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے۔وہ بولا عصا۔پھر اس نے کہا اسے زمین پر پھینک دے۔اس نے زمین پر پھینک دیا اور وہ سانپ بن گیا اور موسیٰ اس کے آگے سے بھاگا‘‘۔(خروج باب ۴ آیت ۲،۳) کیسی عجیب بات ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سانپ کو دیکھا تو ڈر کر بھاگنے لگ گئے حالانکہ سانپ کو ہرشخص مار سکتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ کوئی سمجھدار طاقتور انسان سانپ دیکھے تو ڈر کر بھاگنا شروع کردے وہ فوراً لاٹھی اٹھاتا اور اسے مارڈالتا ہے۔مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سانپ کو دیکھا تو ڈر کر بھاگنا شروع کردیا۔عیسائی اس واقعہ کو پڑھتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت میں کوئی نقص واقعہ نہیں ہوتا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھاگتے نہیں وحی الٰہی کے نازل ہونے پر صرف اتنا فرماتے ہیں کہ نہ معلوم میں اس اہم ذمہ واری کو ادا کرسکوں گا یا نہیں۔تو عیسائی کہتے ہیں آپ نے وحی الٰہی کے متعلق شک اور تردّد کا اظہار کردیا۔پھر لکھا ہے۔’’تب موسیٰ نے خداوند سے کہا کہ اے میرے خداوند میں فصاحت نہیں رکھتا نہ تو آگے سے اور نہ جب سے کہ تو نے اپنے بندے سے کلام کیا اورمیری زبان اور باتوں میں لکنت ہے۔‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۰)