تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 352
کوئی بھائی کہتا کہ یہ الہام ۱۹۰۱ء کا معلوم ہوتا ہے جب ایک جماعت آپ پر ایمان لاچکی تھی۔حالانکہ یہ ۱۸۸۴ء کی کتاب ہے اور گورنمنٹ کے پاس بھی اس کی کاپی موجود ہے۔پھر اس زمانہ میں جب دنیا میں آپ کی نہ کوئی مخالف تھی اور نہ مخالفت کاکوئی امکان تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قرآن کریم کی یہ آیت بہ تغیر قلیل الہام ہوئی کہ لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ۔وَ کَانَ کَیْدُھُمْ عَظِیْمًا (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۶۰۳) یعنی اے شخص لوگ تیری مخالفت کریں گے اور اس مخالفت میں اہل کتاب اور مشرکین دونوں شریک ہوں گے یعنی یہودی بھی تیری مخالفت کریں گے، عیسائی بھی تیری مخالفت کریں گے، مسلمان بھی تیری مخالفت کریں گے، ہندو بھی تیری مخالفت کریں گے اور وہ اس مخالفت سے کبھی باز نہیں آئیں گے جب تک کہ ہماری طرف سے نشان پر نشان ظاہر نہ ہوں۔ان نشانوں کے ظاہر ہونے کے بعد ان کو معلوم ہوگا کہ تو ہماری طرف سے کھڑا کیا گیا ہے۔وَ کَانَ کَیْدُھُمْ عَظِیْمًا اور جن مکروں اور فریبوں سے وہ تجھے مغلو ب کرنا چاہیں گے وہ بڑے عظیم الشان ہوں گے مگر ہم ان کے تمام منصوبوں کو باطل کردیں گے اورتجھے غلبہ اور کامیابی عطا کریں گے۔اس الہام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیسی زبردست مخالفت کی خبر دی گئی ہے حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ اس وقت ہندو آپ کی عزت کرتے تھے، عیسائی آپ کی عزت کرتے تھے، مسلمان آپ کی عزت کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت فرما دیا کہ یہودی اور عیسائی اور مسلمان اور ہندو اور سکھ سب کے سب تیری مخالفت کریں گے اور تیرے خلاف بڑے بڑے منصوبے کریں گے۔وہ چاہیں گے کہ تجھے مٹادیں، تیرے نام کو دنیا سے ناپید کردیںمگر ہم تیری تائید میں اپنے عظیم الشان نشان دکھائیں گے اور آخر نتیجہ یہ نکلے گا کہ تو غالب آجائے گا اور تیرے مخالف مغلوب ہوجائیں گے۔حالانکہ یہود اور دوسرے غیر ملکی مذاہب کے لوگوں کو آپ کے متعلق کوئی علم ہی نہ تھا۔پھر فرمایا وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۔اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ (براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۰۴ ) یہ مدنی آیات ہیں اور منافقوں کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور منافق اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک طرف جماعت کے غلبہ کے آثار ہوں اور دوسری طرف دشمن بھی ابھی طاقتور ہو۔اس حالت کے نتیجہ میں جو پیدائش ہوتی ہے اس کا منافق نام ہوتا ہے۔جس طرح ہر زمین کی پیداوار الگ الگ ہوتی ہے اسی طرح دینی منافقت کی پیداوار اس موسم ہوتی ہیں جب دین دنیا کے ایک حصہ پر غالب آجاتا ہے مگر کفر ابھی پوری طرح مغلوب نہیں ہوتا۔انہیں کفر کا بھی ڈر