تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 349
اس اعتراض کا جواب صحابہؓ تو دے نہیں سکتے کیونکہ وہ فوت ہوچکے ہیں اور صحابہؓ کے زمانہ میں یہ سوال نہیں اٹھا کہ وہ اس پر کوئی روشنی ڈال جاتے۔مگر چونکہ اس اعتراض کا جواب ضروری تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے جہاں اسلام کے اور بہت سے مسائل کو حل کیا وہاں اس ترتیب کے سوال کو بھی اللہ تعالیٰ نے بالکل حل کردیاہے۔جب قرآن کریم نازل ہوا ہے اس وقت ساتھ ہی ساتھ اس رنگ میں کتابت نہیں ہوتی تھی کہ جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ فلاں آیت کس سال میں نازل ہوئی ہے اور فلاں آیت کس سال میں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے زمانہ میں پیدا کیا جب کتابت کا زور تھا، پریس جاری تھے اور ہر چیز شائع ہوکر فوراً لوگوں کی نظروں کے سامنے آجاتی تھی اور یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ چونکہ الہام میں فلاں واقعہ کا ذکر ہے جو اتنے سال بعد پورا ہوا اس لئے یہ الہام اس واقعہ کے بعد کا ہے پہلے کا نہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجود اس اعتراض کے باطل ہونے پر ایک زبردست گواہ ہے۔چنانچہ میں اس کے ثبوت میں ’’براہین احمدیہ‘‘ کے بعض الہامات پیش کرتاہوں۔براہین احمدیہ انگریزی مطبع میں چھپی ہے ۱۸۸۰ء میں اس کی پہلی جلد شائع ہوئی تھی اور ۱۸۸۴ء میں چوتھی جلد چھپنے کے بعد اس کتاب کی دو جلدیں قانون کے مطابق گورنمنٹ کو بھجوادی گئی تھیں بلکہ لنڈن میوزیم میں بھی اس کی کاپیاں محفوظ ہیں۔اس لئے دشمن یہ نہیں کہہ سکتا کہ براہین احمدیہ میں جو باتیں لکھی گئی ہیں وہ ۱۸۸۴ء کے بعد کی ہیں۔جب یہ کتاب شائع ہوئی ہے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بےشک لوگوں میں معروف تھے مگر صرف بطور مباحث کے ہزار دو ہزار آدمی آپ کو جانتے تھے۔مگر اس لئے کہ آپ عیسائیوں یا ہندوئوں وغیرہ کے ان مضامین کا جواب دیتے رہتے تھے جو وہ اسلام کے خلاف لکھتے تھے یا ایسے لوگ جانتے تھے جو آپ کے تقویٰ کے قائل تھے اور آپ سے محبت اور اخلاص رکھتے تھے۔مثلاً لالہ بھیم سین صاحب سیالکوٹ کے ایک وکیل تھے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس قدر تعلق رکھتے تھے کہ جب آپ پر کرم دین والا مقدمہ ہوا تو اس وقت ان کے بیٹے لالہ کنور سین صاحب ایم۔اے جو لاء کالج لاہور کے پرنسپل بھی رہے ہیں اور بعد میں جموں ہائی کورٹ کے جج بن گئے تھے ولایت سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرکے آئے تھے۔لالہ بھیم سین صاحب کو جب کرم دین والے مقدمہ کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو لکھا کہ تمہاری پڑھائی کا کوئی فائدہ ہونا چاہیے مرزا صاحب بڑے