تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 341

اصل بات یہ ہے کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دل میں بار بار یہ خیالات اُٹھتے تھے کہ میں اتنا بڑا کام کس طرح کرسکوں گا ایسا نہ ہو کہ میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بن جائوں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ان خیالات کو کشفی صورت میں اس رنگ میں ظاہر کیا کہ آپ پہاڑکی چوٹیوں سے اپنے آپ کو نیچے گرانا چاہتے ہیں مگر فرشتہ آواز دیتا ہے یَا مُـحَمَّدُ اِنَّکَ رَسُوْلَ اللہِ حَقًّا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔آپ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوں گے کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے کھڑا کیا ہے۔پس میرے نزدیک یہ کوئی ظاہری واقعہ نہیں بلکہ ایک کشف ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیالات کی ترجمانی کی گئی ہے۔درحقیقت رؤیا میں اگر کوئی شخص دیکھے کہ وہ پہاڑ سے اپنے آپ کو گرارہا ہے تو اگر وہ دیکھے کہ وہ پہاڑ سے گر گیا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ کوئی بری بات ظاہر ہوگی اور وہ تباہ ہوجائے گا لیکن اگر وہ رؤیا میں پہاڑ سے گرا تو ہے مگر مرا نہیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اس سے کوئی بڑی بھاری غلطی ہوگی یا کوئی بڑا بھاری کام کرے گا جس کے نتیجہ میں اسے صدمہ پہنچے گا مگر اس کے باوجود وہ ہلاک نہیں ہوگا اور اگر کوئی شخص دیکھے کہ وہ پہاڑ سے گرنے لگا تھا مگر فرشتہ نے اسے کہا کہ گھبراتے کیوں ہو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ کوئی بڑا کام کرنے والا ہے جس میں بظاہر تباہی ہوگی مگر وہ تباہ نہیں ہوگا بلکہ کامیاب و بامراد ہوگا۔اگر ہم اس واقعہ کو ظاہری قرار دیں تب بھی یہ اس خشیت الٰہی کا ثبوت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں پائی جاتی تھی کیونکہ آپ نے ایسا فعل نزول وحی پر نہیں کیا بلکہ وحی کے رکنے پر کیا۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو یہ گھبراہٹ تھی کہ کیا میرے کسی فعل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ناراض ہوکر مجھ سے بولنا تو ترک نہیں کردیا۔لیکن میرے نزدیک یہ ظاہری واقعہ نہیں جس کا ایک ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ ہر دفعہ فرشتہ ظاہر ہوجاتا اور وہ آپ کو آپ کی کامیابی کی بشارت دیتا۔فرشتہ کا آنا خود اپنی ذات میں اس بات کی ایک دلیل ہے کہ ہم اسے ظاہری واقعہ قرار نہیں دے سکتے۔دوسری دلیل اس کی یہ ہے کہ قرآن کریم نے اس واقعہ کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔اب رہا وحی کا سوال۔دشمن کہتاہے کہ آپ کا اس وقت زَمِّلُوْنِیْ۔زَمِّلُوْنِیْ کہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک بیماری کا حملہ تھا۔ہسٹیریا کا دورہ آپ کو ہوا اور آپ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جلدی مجھ پر کپڑا ڈال دو۔مگر یہ سوال بھی وحی الٰہی سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ اصحاب وحی جانتے ہیں وحی الٰہی کے نزول کے وقت اس قدر خشیت کا نزول ہوتا ہے کہ جوڑ جوڑ ہل جاتا ہے۔کیونکہ یہ مقام قرب ہے۔دربار کی شمولیت کا حال