تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 339

تک ایک زندہ یادگار کی حیثیت میں قائم رہنے والا ہے۔مگر جب آپ روم کو شکست دے دیتے ہیں، جب ایران کو شکست دے دیتے ہیں، جب یہ دو زبردست ایمپائر اسلامی فوجوں کے متواتر حملوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہیں، جب عمرؓ کا نام ساری دنیا میں گونجنے لگتا ہے، جب دشمن سے دشمن بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ عمرؓ نے بہت بڑا کام کیا۔اس وقت خود عمرؓ کی کیا حالت تھی۔تاریخ میں لکھا ہے کہ جب آپ وفات پانے لگے تو اس وقت آپ کی زبان پر بار بار یہ الفاظ آتے تھے کہ رَبِّ لَا عَلَیَّ وَلَا لِیْ(الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر استخلاف عـمر) اے میرے رب! میں سخت کمزور اور خطار کار ہوں۔میں نہیں جانتا مجھ سے اپنے کام کے دوران میں کیا کیا غلطیاں سرزد ہوچکی ہیں۔الٰہی میں اپنی غلطیوں پر نادم ہوں۔میں اپنی خطائوں پر شرمندہ ہوں اور میں اپنے آپ کو کسی انعام کا مستحق نہیں سمجھتا۔صرف اتنی التجا کرتا ہوں کہ تو اپنے عذاب سے مجھے محفوظ رکھ۔غور کرو اور سوچو کہ ان الفاظ سے حضرت عمرؓ کی کتنی بلند شان ظاہر ہوتی ہے۔آپ کے سپرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کام کیا گیا اور آپ نے اس کو ایسی عمدگی سے سرانجام دیا کہ یورپ کے شدید سے شدید دشمن بھی اس کام کی اہمیت کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکے۔مگر چونکہ آپ کے دل پر خدا کا خوف طاری تھا آپ نے سمجھا کہ بے شک میں نے کام کیا ہے مگر ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ کام چاہتا ہو اور میں جس کام کو اپنی خوبی سمجھتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں خوبی نہ ہو۔اس لئے باوجود اتنا بڑا کام کرنے کے وفات کے وقت آپ تڑپتے تھے اور بار بار آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوتے تھے کہ رَبِّ لَا عَلَیَّ وَلَا لِیْ۔خدایا میں تجھ سے کسی انعام کا طالب نہیں صرف اتنی درخواست کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنی سزا سے محفوظ رکھ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں نے کوئی کام نہیں کیا۔مجھے خدمت کا حق جس رنگ میں ادا کرنا چاہیے تھا اس رنگ میں ادا نہیں کیا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کے بعد جو گھبراہٹ طاری ہوئی اس کی وجہ درحقیقت یہی تھی کہ آپ کے دل میں خوف پیدا ہوا کہ میرے سپرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عظیم الشان کام کیا گیا ہے نہ معلوم میں اس کو ادا کرسکتا ہوں یا نہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل وحی الٰہی پر شک کی وجہ سے نہ تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی شان کے انسانی دماغوں سے بالاتر ہونے پر یقین کامل کے نتیجہ میں تھا اور آپ کو یہ فکر لگ گیا تھا کہ میں اس کام کے لئے خواہ کتنی بھی قربانی کروں نہ معلوم اللہ تعالیٰ کے ارادوں کے مطابق میں بلند ہوسکوں گا یا نہیں اور اللہ تعالیٰ کی بلند شان سے خوف کرنا جرم نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے اور خدا تعالیٰ کے علو مرتبت کو مدنظر رکھتے ہوئے برا نہیں بلکہ اس بے نظیر خشیت الٰہی کا ایک بین ثبوت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قلب مطہر میں پائی جاتی تھی۔