تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 336

کے لئے رؤیا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کے معنے دیکھنے کے ہیں۔گو محاورہ میں ایسے نظارہ کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو نیند کی حالت میں دیکھا جائے۔لیکن فارسی نے اس کے لئے خواب کا لفظ تجویز کیا ہے جس کے معنے نیند کے ہیں۔یہ بھی ایک فرق ہے جو عربی زبان کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے قرآن کریم نے ہر جگہ رؤیا کا لفظ ہی خواب کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ در حقیقت وہی حالت اصل بیداری کی ہوتی ہے جس میں انسان خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہو گو ظاہری طور پر اس پر نیند یا ربودگی کی کیفیت طاری ہو۔لیکن ایرانی لوگ چونکہ ماہر نہیں تھے انہوں نے خواب کا لفظ ایجاد کر لیاحا لانکہ خواب کے معنے محض نیند کے ہیں پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اگر کسی جگہ یہ فرمایا ہے کہ میں نیند سے بیدار ہو گیا اور دوسری جگہ آپ نے صرف اتنا فرمایا ہے کہ میں نے ایسا نظارہ دیکھا تو اس میں اختلاف کی کوئی بات نہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ ذکر کیا کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اورچاند کو سجدہ کرتے دیکھا ہے تو اس میں خواب کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا مگر حضرت یعقوب علیہ السلام نے اسی نظارہ کے متعلق رؤیا کا لفظ استعما ل کر دیا جو محاورہ میں نیند کی حالت میں دیکھے ہوئے نظارہ کے متعلق بولا جاتا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی ان معنوں میں رؤیا کا لفظ استعمال کیا ہے آپ فرماتی ہیں اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِہٖ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّادِقَۃُ فِی النَّوْمِ فَکَانَ لَا یَرٰی رُؤْیًا اِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ (صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی الٰہی کا آغاز رؤیا صالحہ سے ہوا۔یہاں رؤیا کا لفظ صرف انہی نظاروںکے لئے استعمال کیا گیا ہے جو انسان سوتے ہوئے دیکھتا ہے پس یوروپین مصنفین کی طرف سے جو اختلاف پیش کیا جاتا ہے وہ درحقیقت اختلاف نہیں بلکہ محاورہ زبان کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔اگر یہ رؤیا ہی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیکھی تو بہرحال جیسا کہ ہمیں یقین اور وثوق ہے یہ رؤیا اس قسم کی نہیں تھی جس میں انسان پر کامل نیند طاری ہوتی ہے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی فرق کرتی ہیں۔آپ ایک طرف تو یہ فرماتی ہیں کہ اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِہٖ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْیِ ا لرُّؤْیَا الصَّادِقَۃُ فِی النَّوْمِ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدارؤیا صادقہ سے ہوئی جو آپ سوتے ہوئے دیکھتے مگر اس دوسری وحی کے متعلق جس میں جبریل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔آپ فرماتی ہیں فَـجَاءَہُ الْمَلِکُ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا۔بدء الوحی کا واقعہ خواب کا واقعہ نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں نظاروں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا