تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 30

فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہم جانتے ہیں تم عورتوں کے ساتھ شادی کرتے وقت تما م وجوہ کو نہیں دیکھتے بلکہ کوئی ایک چیز تمہیں پسند آجاتی ہے اور تم ان پر لٹو ہو جاتے ہو۔کبھی تمہیں حسن پسند آجاتا ہے اور تم شادی کر لیتے ہو، کبھی تمہیں مال اچھا لگتا ہے اور تم شادی کر لیتے ہو، کبھی تمہیںخاندان اچھا لگتا ہے اور تم شادی کر لیتے ہو، کبھی تمہیںاخلاق اچھے لگتے ہیں اور تم شادی کر لیتے ہو۔گویا اس آیت میں انسانی فطرت کے اس جوہر کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ عورت سے شادی نہیں کرتا بلکہ اس کی کسی صفت سے شادی کرتا ہے، کبھی مال کی وجہ سے شادی کرتا ہے، کبھی حسن کی وجہ سے شادی کرتا ہے، کبھی تعلیم کی وجہ سے شادی کرتا ہے، کبھی حسب و نسب کی وجہ سے شادی کرتا ہے، کبھی دین کی وجہ سے شادی کرتا ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تُنْکَحُ الْمَرْأَ ۃُ لِاَرْبَعٍ لِمَالِھَا وَلِـحَسَبِـھَا وَلِـجَمَالِھَا وَلِدِیْنِـھَا فَا ظْـفُرْ بِذَاتِ الدِّیْنِ تَرِ بَتْ یَدَاکَ (صحیح بخاری کتاب النکاح باب الاکفاء فی الدین) یہ حدیث بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ شادی کسی صفت ِ غالبہ کے لحاظ سے کی جاتی ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور نصیحت فرمایا کہ جب تم نے صفت ِ غالبہ کے لحاظ سے ہی شادی کرنی ہے تو پھر تم وہ ’’مَا‘‘ نہ اختیار کرو جو حسن کا قائم مقام ہو یا حسب و نسب کا قائم مقام ہو یامال کا قائم مقام ہو بلکہ تم وہ ’’مَا‘‘ اختیار کرو جو دین کا قائم مقام ہو۔یہ عربی زبان کا ایک بہت بڑا کمال ہے کہ الفاظ کے معمولی ہیر پھیر سے اس میں نئے سے نئے معنے پیدا ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری کلام اس زبان میںنازل فرمایا۔واقعہ یہی ہے کہ بعض دفعہ کوئی صفت اس قدر غالب آجاتی ہے کہ وہ وجود کو ڈھانپ دیتی ہے۔مریم ؑ کی ماںکو صرف ایک لڑکی نظر آتی تھی مگر اللہ کو صفتِ مریمیت نظر آتی تھی۔اسی طرح مرد بعض دفعہ عورت کو بھول جاتا ہے اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے باقی سب امور کو نظر اندازکر دیتا ہے صرف ا س کا حسن یااس کا خاندان یا اس کی کوئی اور ادا اُسے اپنی طرف مائل کر لیتی ہے اس وقت اس لحاظ سے وہ مَنْ نہیں بلکہ مَا ہی ہو جاتی ہے۔بہرحال جہاں ذات کی بجائے کسی صفت کا غلبہ مدّ ِ نظر ہو اور اس صفت پر خاص طور پر زور دینا مقصود ہو وہاں قرآن کریم مَنْ کی جگہ ’’مَا ‘‘ کا لفظ استعمال کرتاہے پس انہی معنوںسے اس جگہ وَ مَا بَنٰىهَا کے الفاظ آئے ہیں یعنی یہ بتانے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت صنعت کو اپنے سامنے رکھو۔وہ لوگ جنہوں نے ان معنوں کو قبول نہیں کیا وہ ’’مَا ‘‘ کو مصدریہ قرار دیتے ہیں۔قتادہ، مبرد اور زجاج یہی کہتے ہیںیہ قول درحقیقت ان لوگوں کا ہے جو ’’مَا ‘‘ کو افرادِ ذوی العقل کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں سمجھتے وہ ہر جگہ مصدر کے معنے کرتے ہیں(البحر ا لمحیط زیر آیت وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا) اور کہتے ہیںکہ جس جگہ ’’مَا‘‘ آجائے وہ