تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 334
سے آپ کی مشابہت ثابت نہیں ہوسکتی کیونکہ ان کو خدا تعالیٰ کے فرشتے آمنے سامنے نظر آتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا وہ ایک خواب تھی۔جن لوگوں نے اس بات پر زور دینا چاہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دماغ میں نعوذ باللہ کوئی نقص واقعہ ہوگیا تھا انہوںنے ابن ہشام کی روایت کو نظر انداز کرکے بخاری اور مسند احمد بن حنبل کی وہ حدیث لے لی ہے جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرشتہ کو دیکھا۔وہ کہتے ہیں چونکہ انسانی دماغ اس قسم کا نظارہ نہیں دیکھ سکتا اس لئے یہ نظارہ علامت تھی اس بات کی کہ آپ کا دماغ نعوذ باللہ خراب ہوگیا تھا۔بدء الوحی پر یوروپین مصنفین کے اعتراض کی اصل وجہ میرے نزدیک یوروپین مصنّفین کی نیت خواہ کچھ ہو اس بارہ میں اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نظارۂ کشف کی حقیقت کو سمجھتے ہی نہیں۔وہ اس قدر مذہب سے دور جاپڑے ہیں کہ کشفی نظارے ان کو بہت ہی کم نظر آتے ہیں بلکہ خوابیںبھی ان کو بہت کم آتی ہیں۔گو خدائی سنت یہ ہے کہ ہر قسم کے طبقہ کو خوابیں دکھائی جاتی ہیں مگر پھر بھی یوروپین لوگوں میں سے بعض ایسے ہیںجن کو ساری عمر میں بھی کبھی کوئی خواب نہیں آئی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دن کو کام کرتے ہیں اور رات کوناچتے ہیں پھر شراب پی کر یا نیند کی دوائیں کھاکر سوجاتے ہیں۔اس وجہ سے انہیں ایسی خوابیں بھی نہیں آتیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھا ہے کہ وہ کنچنیوں کو بھی آجاتی ہیں(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵)۔کیونکہ شراب کا نشہ ان کے دماغ کو بالکل معطل کردیتا ہے۔پس میرے نزدیک اس بارہ میں اختلاف نظارئہ کشف کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہوا ہے اور مغربی لوگ اس علم سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے دھوکا کھاجاتے ہیں۔کشف کی حقیقت بات یہ ہے کہ جب کشف کی حالت انسان پر طاری ہوتی ہے تو جیسا کہ صاحب تجربہ لوگ جانتے ہیں اس وقت انسان اپنے آپ پر ایک ربودیت کی حالت محسوس کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے اس دنیا سے کھینچ کر کسی اور دنیا میں لے جایا گیا ہے۔اسے اپنے اردگرد کی سب چیزیں نظر آتی ہیں، مکان کی دیواریں نظر آتی ہیں، گھر کا سامان نظر آتا ہے۔مگر اس کے باوجود وہ محسوس کرتا ہے کہ کوئی اور حالت اس پر طاری ہوگئی ہے جو اسے اس دنیا سے الگ لے گئی ہے۔اسی طرح اس حالت کے جاتے وقت بھی انسان یوں معلوم کرتاہے کہ وہ گویا ایک غیر معمولی حالت سے پھر حواس میں آگیا ہے۔اس کی مثال بالکل ایسی ہوتی ہے جیسے ریڈیو کو ایک میٹر سے دوسرے میٹر پر تبدیل کردیا جاتا ہے۔پہلے وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے اس دنیا سے کھینچ کر کسی اور دنیا میں لے جایا گیا ہے اور جب وہ حالت جاتی ہے تو وہ یک دم محسوس کرتا ہے کہ اسے کسی اور دنیا سے اس دنیا میں واپس لوٹادیا گیا ہے۔اگر ایسا