تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 331
ظاہر کردیا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ پڑھو بلکہ مطلب یہ تھا کہ جو کچھ میں کہتا جائوں اسے ساتھ ساتھ دہراتے جائو۔قَرَاَ کے دونوں معنے ہوتے ہیں کسی چیز کو دہرانا یا لکھے ہوئے کو پڑھنا۔پس جب فرشتے نے کہا اِقْرَاْ تو درحقیقت اس کے یہ معنے نہ تھے کہ لکھے ہوئے کو پڑھو۔کیونکہ لکھا ہو اپڑھنا اس وقت مدنظر ہی نہیں تھا۔فرشتے کامقصد صرف یہ تھا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے زبانی دہراتے جائو چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کو دہرادیا تو چونکہ اس کا مقصد حاصل ہوگیا اس لئے وہ واپس چلا گیا۔ابتداء وحی ایک نہایت اہم مسئلہ ہے جیسا کہ ابن کثیر نے کہا ہے یہ پہلی رحمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا اور پہلی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے فضل سے انہیں حصہ عطا فرمایا۔پس اس سورۃ کی ابتدائی آیات اس لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتی ہیںکہ یہ قرآن کریم کے لئے بمنزلہ بیج اور گٹھلی کے ہیں اور ان آیات کے نزول کے بعد باقی قرآن نازل ہوا ہے۔یوں تو سارا قرآن ہی اہمیت رکھتا ہے مگر جذباتی طور پر اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ایسی اہمیت رکھنے والی آیات ہیں کہ جب انسان ان کو پڑھتا ہے اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور وہ کہتا ہے یہ وہ آیات ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے قرآن سے روشناس کرایا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے دوست آپس میں ملتے ہیں تو وہ ایک دوسرے سے بعض دفعہ خاص طور پر اس امر کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کی دوستی کا آغاز کس طرح ہوا یا میاں بیوی آپس میں مذاکرہ کرتے ہیں تو وہ بھی بعض دفعہ بڑے شوق سے یہ ذکر کرتے ہیں کہ ہمارا نکاح کس طرح ہوا۔اگر معمولی دنیوی واقعات ایسی اہمیت رکھتے ہیں کہ انسان ان کا ذکر کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا وہ آخری کلام جس کے ذریعہ دنیا قیامت تک ہدایت پاتی رہے گی، جس کے ذریعہ انسانی پیدائش کا مقصد پورا ہوا، جس کے ذریعہ انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوا جس کے ذریعہ خالق اور مخلوق کا تعلق آپس میں قائم کیا گیا، اس کی بنیاد جن آیات پر ہے ان کی اہمیت اور عظمت سے کون شخص انکار کرسکتاہے۔جس طرح میاں بیوی شوق سے باہم ذکر کرتے ہیں کہ ہمارا نکاح کس طرح ہوا یا دوست شوق سے یہ ذکر کرتے ہیں کہ ہماری دوستی کا آغاز کس طرح ہوا اسی طرح اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ وہ الفاظ ہیں جن کو پڑھتے ہی انسان کا دل فرطِ محبت سے اُچھلنے لگتا ہے، اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوجاتی ہے، اُس کے خوابیدہ جذبات میں ایک حرکت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ کہتا ہے یہ وہ آیات ہیں جن کے ذریعہ مجھے اپنے رب کا وصال حاصل ہوا۔جن کے ذریعہ انسان اور خدا کا باہمی رشتہ جوڑا گیا اور دوستی کا وہ آخری مرحلہ قائم کیا گیا جو خدا اور بندے کے درمیان ہونا چاہیے۔