تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 329
یوں معلوم ہوتا ہے کہ اِقْرَاْ کے بعد مدثر نازل ہوئی۔لیکن یہ اختلاف حقیقی نہیں درحقیقت ایک امر کے نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ اختلاف پیدا ہوا ہے۔فترۃ وحی کا زمانہ لوگ عام طور پر خیال کرتے ہیں کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ کے بعد فترۃ وحی ہوئی ہے حالانکہ جو حدیث بخاری میںبیان ہوئی ہے اس سے یہ پتہ نہیں لگتا۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اس کے کچھ عرصہ بعد ورقہ بن نوفل فوت ہوئے اور پھر فترۃ کا زمانہ آگیا۔درمیانی عرصہ کا اس حدیث میں ذکر نہیں کیا گیا۔فترۃ وحی چونکہ ایک اہم مسئلہ تھا اس لئے اس کا ذکر کردیا گیا مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اِقْرَاْکے بعد فترۃ ہوئی ہے بلکہ اِقْرَاْ کے بعد کچھ اور کلام نازل ہوا تھا اور اس کے بعد فترۃ ہوئی ہے اور یہی بات قرین قیاس بھی ہے۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ تو اس میں تو کوئی حکم بیان نہیں ہوا پھر کیا حکم دیا تھا جس کے متعلق اِقْرَاْ کہا گیا تھا۔اِقْرَاْ کا لفظ صاف بتاتا ہے کہ کوئی باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہنی ہیں۔وہ کہنے والی باتیںبہرحال اِقْرَاْ کے بعد نازل ہونی چاہیے تھیں۔چنانچہ اِقْرَاْ کے بعد نون والقلم نازل ہوئی اس کے بعد سورۃ مزمل نازل ہوئی اور پھر فترۃ کا زمانہ آگیا۔پس میرے نزدیک اصل واقعہ یہ ہے کہ اِقْرَاْ کی ابتدائی آیات اور اسی طرح نون والقلم اور سورۃ المزمل کی کچھ آیات پہلے نازل ہوئیں پھر فترۃ وحی ہوئی اور اس کے ختم ہونے پر سورۃ المدثر نازل ہوئی۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَا اَنَا بِقَارِیءٍ اس کا یہ مفہوم نہیں تھا کہ میں کتاب نہیں پڑھ سکتا کیونکہ کتاب تو اس جگہ کوئی پیش ہی نہیں تھی۔ایک حدیث میں بے شک آتا ہے کہ جبریل کے ہاتھ میں ایک کپڑا تھا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا۔مگر اس حدیث میں یہ ذکر نہیں آتا کہ جبریل نے وہ کپڑا دکھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا ہو کہ اس پر جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھو کیونکہ اسی حدیث میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کیا پڑھوں۔اگر اس نے کپڑا دکھا کر کچھ پڑھانا ہوتا تو آپ یہ نہ کہہ سکتے کہ میں کیا پڑھوں(دُرّ منثور زیر سورۃ علق)۔حقیقت یہ ہے کہ مَا اَنَا بِقَارِیءٍ کے الفاظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکسار کے طور پر استعمال فرمائے تھے اور آپ ڈرتے تھے کہ میں عہدئہ نبوت کی اہم ذمہ داریوں کو پوری خوش اسلوبی سے ادا بھی کرسکوں گا یا نہیں۔یہی حال ہر نبی کا ہوتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انہیں فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض