تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 29

ہو یعنی کبھی کوئی وجود ایسا ہوتا ہے کہ اس کی کوئی صفت اس کے عام انسان ہونے پر غالب آجاتی ہے اس وقت چونکہ کسی مخصوص صفت پر زور دینا مقصود ہوتا ہے ’’مَا‘‘ کو مَنْ کا قائم مقام کر دیا جاتا ہے۔مثلاً وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے یہ لڑکی جو تو نے جنی ہے اس میں وہ صفت جو تو لڑکے میں امید رکھتی تھی کس شان میں پائی جاتی ہے چونکہ صفت غیر ذوی العلم میںسے ہے اس لئے ’’مَا‘‘ کا لفظ استعمال کر کے اس کی ایک مخصوص قابلیت کی طرف اشارہ کر دیا اگر وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَنْ وَضَعَتْ کہا جاتا تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے کہ یہ لڑکی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تو یہ پتہ ہی تھا کہ وہ لڑکی ہے یا لڑکا۔خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان لانے والوں کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم ہے کہ تو نے کیا جنا ہے وہ تو پہلے ہی معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو جانتا ہے۔پس اگر وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَنْ وَضَعَتْ کہا جاتا تو اس میں کوئی خاص بات نہ ہوتی مگر وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا کہ مریم کی ماں کو کیا پتہ ہے کہ اس میں کیا کیا صفات پائی جاتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس میں کیسی عظیم الشان صفات اور قابلیتیں پائی جاتی ہیں۔پس ’’مَا‘‘ کا لفظ مریم کی قابلیت اور اس کی صفات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے استعمال کیا ہے اگر مَنْ ہوتا تو اس کے اتنے ہی معنے ہوتے کہ اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے یہ لڑکی ہے مگر ’’مَا‘‘ کا لفظ استعمال کر کے اس طرف اشارہ کر دیا کہ ع آگے آگے دیکھیو ہوتا ہے کیا جب یہ بڑی ہو گی تمہیں معلوم ہو گا کہ یہ کیسی عظیم الشان لڑکی ہے گویا وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ کے لحاظ سے یہ ایک پیشگوئی بن گئی مگر وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَنْ وَضَعَتْ کے لحا ظ سے محض ایک واقعہ کا اظہار ہوتا۔اسی طرح فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ بسا اوقات شادی بیاہ کے تعلقات محض جذباتی ہوتے ہیں اور انسان عورت کو نہیںدیکھتا بلکہ اس کی کسی خاص صفت کو دیکھتا ہے۔بہت سے لوگ عورت کے جمال پر اتنے فریفتہ ہو جاتے ہیں کہ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ عورت کس خاندان میںسے ہے، اس کا آنا ہمارے ماں باپ کے لئے یا ہمارے خاندان کے لئے کسی تکلیف کا باعث تو نہیں ہو جائے گا۔وہ اس کی صورت پر اتنے عاشق ہوتے ہیں کہ اور تمام باتو ں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔اسی طرح کئی لوگ صرف مال دیکھ کر شادی کرتے ہیں، کئی لوگ صرف حسب و نسب اور اعلیٰ خاندان دیکھ کر شادی کرتے ہیں، کئی لوگ صرف اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے عورت سے شادی کرتے ہیں اور کئی لوگ صرف اخلاق فاضلہ کی شہرت سن کر شادی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔غرض کوئی ایک صفت اتنی غالب آجاتی ہے کہ انسان اس صفت کی وجہ سے مجبور ہوتا ہے کہ عورت سے شادی کرے پس