تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 28
عظیم الشان مرکز بنانے کا موجب ہوںگے۔اوراگر عام معنے لئے جائیں تو آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ ایسے ہی وجودوں سے اصلاح کی بنیاد پڑتی ہے جب تک ایسے وجود پیدا نہ ہوں اصلاح نہیں ہو سکتی اور اگر اب ایسا نہ ہو گا تو ابراہیم کی پیشگوئی غلط جائے گی۔وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ۰۰۶وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ۰۰۷ اور آسمان کی اور اس کے بنائے جانے کی۔اور زمین کی اور اس کے بچھائے جانے کی۔حلّ لُغات۔طَحٰىهَا طَـحَا الشَّیْءَ کے معنے ہیں بَسَطَہٗ وَمَدَّہٗ کسی چیز کو پھیلایا۔(اقرب) تفسیر۔مَا طَحٰىهَا میں مَا کے معنے نحوی یہاں ’’مَا‘‘ کے دو معنے کرتے ہیں بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ ’’مَا‘‘ اَلَّذِیْ کے معنوں میں ہے اور مَنْ کا قائم مقام ہے گویا یہاں ’’ما‘‘ مَنْ کی جگہ استعمال ہوا ہے اور آیت دراصل یوں ہے کہ وَ السَّمَآءِ وَ مَنْ بَنٰىهَا ہم شہادت کے طور پر آسمان کو پیش کرتے ہیں اور اسے بھی جس نے اسے بنایا۔(اِمْلَاء مَا مَنَّ بِہِ الرَّحْمٰنُ زیر سورۃ الشمس۔و تفسیر کشّاف زیر آیت وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَاوَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا) اس کے متعلق سورۃ البلد کے تفسیری نوٹوں میں یہ امر واضح کیا جا چکا ہے کہ قرآن کریم میں ’’ما‘‘ مَنْ کے معنوں میں بھی استعمال کیا گیا ہے چنانچہ حضرت مریم علیہا السلام جب پیدا ہوئیں تو ان کی والدہ نے کہا یا اللہ میںنے تو بیٹی جنی ہے حالانکہ میں چاہتی تھی کہ لڑکا پیدا ہو اور اسے میں تبلیغ کے لئے وقف کروں۔اس موقع پر قرآن کریم میں یہ الفاظ آتے ہیں وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ ( اٰلِ عمران :۳۷) حالانکہ لڑکی کے لئے مَنْ کا لفظ استعمال ہونا چاہیے تھا اسی طرح فرماتا ہے فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ (النسآء: ۱۲) یعنی تمہیں عورتوںمیںسے جو پسند آئیںان کے ساتھ شادی کر لو۔دو کرو۔تین کرو یا چار کرو یہ تمہارا اختیار ہے ہماری طرف سے اس میںکوئی روک نہیں۔اب عورت ذوی العلم افراد میں سے ہے اور اس کے لئے مَا کی بجائے مَنْ کا لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا مگر بجائے یہ کہنے کے کہ فَانْكِحُوْا مَنْ طَابَ لَكُمْ اللہ تعالیٰ نے فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ فرمایا ہے۔اس پر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں دونوں جگہ مَا کا لفظ کیوں رکھا ہے جبکہ مَنْ کا لفظ اس غرض کے لئے لغت نے وضع کیا ہوا تھا اوروہ اس موقع پر استعمال بھی ہو سکتا تھا۔آخر وجہ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک وضعی لفظ چھوڑ کر اس کی جگہ ایک غیر وضعی لفظ رکھ دیا؟ اس کی صاحب کشاف نے ایک نہایت لطیف توجیہ کی ہے جو میرے نزدیک درست ہے وہ کہتے ہیں مَنْ کی جگہ مَا کا لفظ اسی وقت استعمال ہوتا ہے جب وجود پر کوئی صفت غالب آگئی