تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 324

لَیْتَنِیْ اَکُوْنُ حَیًّا حِیْنَ یُـخْرِجُکَ قَوْمُکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوَ مُـخْرِجِیَّ ھُمْ فَقَالَ وَرَقَۃُ نَعَمْ لَمْ یَاْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِـمَاجِئْتَ بِہٖ اِلَّا عُوْدِیَ وَ اِنْ یُّدْرِکْنِیْ یَوْمَکَ اَنْصُـرْک نَصْـرًا مُّؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ اَنْ تُوُفِّیَ وَ فَتَـرَالْـوَحْیُ فَتْـرَۃً حَتّٰی حَزِنَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْـمَا بَلَغَنَا حَزَنًا غَدًا مِّنْہُ مِرَارًا کَیْ یَتَرَدّٰی مِنْ رُّءُوْسِ شَوَاھِقِ الْـجِبَالِ فَکُلَّمَا اَوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ لِکَیْ یُلْقِیَ نَفْسَہٗ مِنْہُ تَبَدّٰی لَہٗ جِبْـرِیْلُ فَـقَـالَ یَـامُـحَمَّدُ اِنَّـکَ رَسُوْلُ اللہِ حَقًّا فَیَسْکُنُ بِذَالِکَ جَأْشُہٗ وَ تَقِرُّ بِہٖ نَفْسُہٗ فَیَـرْجِعُ فَاِذَااَ طَالَتْ عَلَیْہِ فَتْرَۃُ الْوَحْیِ غَدَا لِمِثْلِ ذَالِکَ فَاِذَا اَوْفٰی بِذِرْوَۃِ الْـجَبَلِ تَبَدّٰی لَہٗ جِبْـرِیْلُ فَقَالَ لَہٗ مِثْلَ ذَالِکَ وَھٰذَا الْـحِدِیْثُ مُـخْرَجٌ فِی الصَّحِیْحَیْنِ مِنْ حَدِیْثِ الزُّھْرِیِّ۔یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتداء میں جو وحی نازل ہوئی وہ رئویا صادقہ کی صورت میں نازل ہوئی تھی۔آپ جو بھی خوا ب دیکھتے وہ ایسے واضح رنگ میں پوری ہوجاتی جیسے فجر کا طلوع ہوتا ہے اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ رغبت پیدا ہوئی کہ آپ خلوت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔بعض دوسری حدیثوں میں آتا ہے کہ ان دنوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خلوت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے زیادہ اور کوئی چیز پیاری نہیں تھی۔چنانچہ آپ غارِ حراء میں جاتے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے۔عبادت کا یہ طریق تھا کہ آپ کئی کئی راتیں غارِ حراء میں بسر کردیتے اور دن رات اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی عبادت میں مشغول رہتے۔جتنا عرصہ آپ نے عبادت کا ارادہ کیا ہوتا تھا اتنے عرصہ کے لئے آپ حراء میں ہی اپنا زاد لے جاتے تھے اورجب وہ ختم ہوجاتا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے وہ اتنا ہی اور زاد تیار کرکے دے دیتیں اور آپ پھر اس کو ساتھ لے کر عبادت کے لئے غارِ حراء میں چلے جاتے۔ایک دن آپ اسی طرح غارِ حراء میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کررہے تھے کہ آپؐپر وحی الٰہی کا آغاز ہوگیا۔ایک فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا اِقْرَاْ یعنی پڑھ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَا اَنَا بِقَارِیءٍ میں تو پڑھنانہیں جانتا۔قَالَ فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِیْ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب میں نے یہ جواب دیا تو اس نے مجھے پکڑا اور بھینچنا شروع کردیا۔غَطّٰی کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کو پانی میں ڈبودینا۔لیکن محاورہ میں غَطّٰی بھینچنے کو کہتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں اس نے مجھے بھینچا اور اتنا بھینچا کہ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْـجُھْدُ میری مقابلہ کی طاقت ختم ہوگئی۔یعنی میں نے سمجھا کہ اگر اس نے اب مجھے زیادہ بھینچا تو میں مرجائوں گا۔اس کے بعد اس نے مجھے چھوڑ دیا ور پھر کہا پڑھ! میں نے کہا میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔اس نے پھر مجھے بھینچا یہاں تک کہ میری مقابلہ کی طاقت ختم ہوگئی۔اس پر اس نے پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا اِقْرَاْ۔پڑھ! میں