تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 320
غالب نہیں آسکتا؟ غرض فرماتا ہے فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّيْنِ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مثالوں کے بعد یہ لوگ تیرے انعام پانے اور اپنے ہلاک ہونے میں دین حقہ کی بناء پر کس طرح شک کر سکتے ہیں۔ان مثالوں کے بعد کون سی دلیل ہے جو ان کو شبہ میں مبتلا رکھ سکتی ہے یا کون سا انسان ہے جو دین کی بناء پر تیری تکذیب کرسکتا ہے۔گذشتہ انبیاء کے واقعات تیری صداقت کو روز روشن کی طرح واضح کر رہے ہیںاور ہر شخص جو تعصّب سے خالی ہوکر ان پر غور کرے وہ یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوگا کہ فطرت صحیحہ آخر بنی نوع انسان کی مدد کے لئے ابھر آ تی ہے اور بنی نوع انسان دیر تک صداقت کا انکار نہیں کر سکتے۔پس جس فطرت کے ہتھیار سے سابق انبیاء اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے اسی طرح تو بھی اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔دنیا بےشک مخالفت کرے وہ جس قدر منصوبے سوچنا چاہتی ہے سوچ لے۔آخر وہی ہو گا جو ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے کہ فطرت صحیحہ خدا کے رسول کی مدد کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی اور وہ غالب آگیا۔اور اس کے دشمن ذلت اور ناکامی کی موت مرے۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ ان پہلی تین مثالوں کی موجودگی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے دین یعنی الہامی دین کا یہ لوگ کس طرح انکار کر سکتے ہیں۔ان معنوں کے رو سے یہاں دین کے معنے جزا سزا کے نہیں ہوں گے بلکہ دین کے معنے شریعت کے ہوں گے اور آیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ ان دلائل کے بعد دین کے معاملہ میں کون شخص تیرا انکار کر سکتا ہے جب وہ مانتے ہیں کہ آدمؑ کو بھی الہام ہوا۔نوحؑکو بھی الہام ہوا۔موسٰی کو بھی الہام ہوا اور یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے لئے دین لائے تو اب یہ کس طرح کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام نہیں ہو سکتا یا اس کی طرف سے کوئی نیا دین لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل نہیں ہو سکتا۔تیسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ ان دلائل کے بعد آیا کوئی بھی مذہبی دلیل تیرے خلا ف پیش کی جا سکتی ہے یقیناً اگر وہ غور کریں تو انہیں تیری تکذیب کے لئے کسی مذہبی دلیل کا سہارا نہیں مل سکتا کیونکہ آدمؑ،نوحؑاورابراہیمؑ کی سنت تجھ سے پہلے موجود ہے جس معیار پر ان نبیوں کو پرکھا گیا اگر انہی دلائل پر تجھے پرکھا جائے تو تیری صداقت یقیناً ثابت ہو گی۔تکذیب کا موجب وہی دلیل ہو سکتی ہے جس کی زَد ان کے مسلمہ نبیوں پر نہ پڑتی ہو اور یہ ایسی کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔ان کے عقلی ڈھکونسلے تیرے ہی خلاف نہیں پڑتے بلکہ سب سابقہ انبیاء کے خلاف بھی پڑتے ہیں۔چوتھے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ کیا اس کے بعد کوئی شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ میں تدبیر کرکے تجھے جھوٹا