تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 318

کہہ کر ایمان لانے والوں اور عمل صالح کی بجاآوری میں مشغول رہنے والوں کا استثنیٰ کردیا اور بتادیا کہ جو لوگ احسن تقویم پر قائم رہتے اور اس راستہ پر چلتے چلے جاتے ہیں جو فطرت صحیحہ کا ہے اللہ تعالیٰ ان کو دولت ایمان سے مشرف کردیتاہے۔اور انہیں اس بات کی بھی توفیق عطا فرما دیتا ہے کہ وہ اعمال صالحہ بجالائیں۔گویا ایمان اور عمل صالح کا راستہ فطرت صحیحہ کی لائن کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔جو لوگ فطرت کو بگاڑ لیتے ہیں اور اپنے قوائے استعدادیہ سے صحیح رنگ میں کام نہیں لیتے وہ تو اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ میں جاگرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو فطری اور طبعی راستہ پر چلتے چلے جاتے ہیں اپنی قوتوں کو برمحل استعمال کرتے ہیں اور فطرت کو مسخ کرنے کی کوشش نہیں کرتے ان کو ایمان بھی عطا کیا جاتا ہے اور ان میں اعمال صالحہ بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ایسے لوگ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ میں نہیں لوٹائے جاتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو غَيْرُ مَمْنُوْنٍ یعنی جزائے غیر مقطوع حاصل ہوتی ہے اور اس طرح صحیح علم اور اس کے صحیح استعمال کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لئے اعلیٰ انعامات کے مستحق ہوجاتے ہیں۔اٰمَنُوْا میں صحیح علم کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ علم جو مناسب حال ہو اور عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ میں اس علم کے صحیح استعمال یعنی صحیح عمل کی طرف اشارہ ہے اور یہی دو چیزیں ہیں جو روحانی ترقی میں کام آیا کرتی ہیں۔فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّيْنِؕ۰۰۸ پس اس (حقیقت کے کھل جانے) کے بعد کون سی چیز تجھ کو جزاء سزا کے معاملے میں جھٹلاتی ہے۔حلّ لُغات۔کَذَّبَہٗ کَذَّبَہٗ کے معنے ہوتے ہیں نَسَبَہٗ اِلَی الْکِذْبِ اس کی طرف کذب کا ارتکاب منسوب کیا۔قَالَ لَہٗ اَنْتَ کَاذِبٌ یعنی اس کی نسبت کہا کہ تو جھوٹا ہے وَجَعَلَہٗ کَاذِبًا یا اس کو کاذب قرار دیا (اقرب)۔اَلدِّیْن اَلدِّیْنُ کے معنے ہیں اَلْـجَزَاءُ وَالْمُکَافَاۃُ جزا سزا۔اَلطَّاعَۃُ اطاعت۔اَلْـحِسَابُ حساب۔اَلْقَہْرُ وَالْغَلَبَۃُ وَالْاِسْتِعْلَاءُ غلبہ۔اَلسُّلْطَانُ وَالْمُلْکُ وَالْـحُکْمُ بادشاہت۔اَلتَّدْبِیْـرُ تدبیر۔اِسْـمٌ لِّـجَمِیْعٍ مَّایُعْبَدُ بِہِ اللہ مختلف مذاہب کا عبادت کا طریق۔اَلْوَرَعُ پاکیزگی۔اَلْمَعْصِیَۃُ گناہ۔اَلْاِکْرَاہ جبر۔اَلْمِلَّۃُ مذہب۔اَلْعَادَۃُ عادت۔اَلْقَضَاءُ قضاء۔اَلْـحَالُ حال۔اَلشَّاْنُ شان (اقرب)۔تفسیر۔کشاف کے نزدیک فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّيْنِ سے مراد یہ ہے کہ کون سی چیز تجھے ان دلائل کے بعد اس بات پر ابھارتی ہے کہ جزا سزا کا انکار کرکے تو کاذب ہوجائے۔گویا ان کے نزدیک يُكَذِّبُكَ کا خطاب کفار