تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 317
اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ باستثناء ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے مناسب حال عمل کئے سو ان کے لئے ایک نہ ختم ہونے والا غَيْرُ مَمْنُوْنٍؕ۰۰۷ (نیک) بدلہ ہوگا۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کا استثنیٰ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لاتے اور اعمال صالحہ کی بجاآوری میں ہمیشہ مشغول رہتے ہیں ان کو ہم اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ میں نہیں لوٹاتے کیونکہ وہ فطرت کو صحیح راستہ پر چلاتے اور اپنی قوتوں کا جائز اور برمحل استعمال کرتے ہیں۔یہاں سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم کے ذکر میں ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ کو پہلے کیوں رکھاہے اور اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کا ذکر پیچھے کیوں کیا ہے؟ اور اس تقدیم و تاخیر میں کیا حکمت ہے۔ا س کا جواب یہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ چونکہ طبعی اور فطری قویٰ کے صحیح استعمال کا نام ہے اور جو شخص احکام الٰہیہ پر ایمان لاتا ہے اور پھر ان کے مطابق اعمال صالحہ بھی بجالاتا ہے وہ درحقیقت اس راستہ پر چلتا چلا جاتا ہے جو فطرت کا راستہ ہے اور اس کے نتیجہ میں اسے مذہب جیسی نعمت حاصل ہوتی ہے اور وہ ایمان اور اعمال کی برکات سے متمتع ہوتا ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا اِلَّا کہہ کر علیحدہ طور پر ذکر فرماتا اور اس طرح اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ میں جانے والوں اور فطری استعدادوں سے صحیح طور پر کام لینے والوں میں ایک مابہ الامتیاز قائم ہوجاتا۔رہا یہ سوال کہ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ میں گرنے والوں کا پہلے کیوں ذکر کیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ وہ لوگ اپنی پیدائش کے مقصد کو فراموش کرنے والے تھے اس لئے ضروری تھا کہ جب یہ ذکر کیا گیا تھا کہ ہم نے انسان کو معتدل القویٰ پیدا کیا ہے اور اس کی فطرت میں نیکی اور بھلائی کی قوتیں رکھ دی ہیں وہاں ساتھ ہی اس شبہ کا ازالہ بھی کردیاجاتا کہ اگر ایسا ہے تو بعض لوگ بد کیوں ہوتے ہیں۔چنانچہ اس کا جواب یہ دیا ہے کہ گو ہم نے انسان کو اسی مقصد کے لئے پیدا کیا ہے مگر پھر بھی بعض لوگ چونکہ اپنی فطرت کو مسخ کردیتے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں کا ناجائز استعمال کرتے ہیں وہ مقام رفعت سے گر کر ذلت اور ادبار کے گڑھے میں جا پڑتے ہیں اور انسانیت کے لئے ان کا وجود ننگ و عار کا باعث بن جاتا ہے۔یہ ان کا اپنا قصور ہوتا ہے خدا تعالیٰ اس کا ذمہ دار نہیں۔اس کے بعد اِ