تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 316

دریا میں کسی کو ڈوبتے دیکھا تو خیال کرلیا کہ یہ ڈرنے کی چیزہے اور اس کی عبادت شروع کردی۔پھر پہاڑ کی کھڈ میں کسی کو گر کر ہلاک ہوتے دیکھا تو خیال کرنا شروع کردیا کہ پہاڑ بھی ڈرنے کی چیز ہے اور اس کی عبادت شروع کردی۔غرض جس جس چیز سے ڈرا اس کے آگے ہاتھ جوڑنے لگا مگر پھر جوں جوں زمانہ گزرتا گیا انسان نے ادنیٰ چیزوں سے نظر اٹھا کر بالا ہستیوں کو پوجنا شروع کردیا۔پھر کچھ اور عرصہ کے بعد یہ بالا ہستیاں غیرمادی قرار پاگئیں اور آخر ایک واحد ہستی جو سب پر فائق تھی تجویز ہوئی۔پس ان کے نزدیک ارتقاء اس رنگ میں ہوا ہے کہ مادیات سے نظر اٹھاتے ہوئے انسان آخر ایک غیرمرئی خدا کی پرستش میںمصروف ہوگیا۔لیکن قرآن کریم کہتا ہے یہ غلط ہے کہ پہلے ضلالت تھی اور ہدایت بعد میں آئی بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ نیکی پہلے تھی اور بدی بعدمیں آئی۔پہلے آدمؑ آئے اور انہوں نے تمدّن کی بنیاد رکھی پھر خرابی پیدا ہوئی تو نوحؑآئے، پھر خرابی پیدا ہوئی تو موسٰی آئے، پھر خرابی پیدا ہوئی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔غرض نیکی کا دور پہلے ہے اور بدی کا بعد میں۔یہی فلسفی ارتقاء اور قرآنی ارتقاء میں فرق ہے۔قرآن کریم کے نزدیک دور حسنات پہلے ہے اور دور سیئات بعد میں۔لیکن فلسفی اصول کے ماتحت دَور سیئات پہلے ہے اور دَور حسنات بعد میں۔فرد کے لحاظ سے اس کے یہ معنے ہیں کہ انسان کو ہم نے ہدایت دی اور اعلیٰ درجہ کی طاقتیں نیکی میں ترقی کرنے کے لئے بخشیں۔لیکن جب اس نے ان کا غلط استعمال کیا تو وہ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ میں گر گیا۔یعنی انسان کی دونوں حالتیں دوسری مخلوق سے بڑی ہیں۔جب نیکی کی طرف آتا ہے تو سب مخلوق سے بڑھ جاتا ہے اور جب بدی کی طرف گرتا ہے تو ساری مخلوق سے گرجاتا ہے۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے اضداد کا مالک بنایا ہے۔نیکی میں حصہ لیتا ہے تو ساری مخلوق سے بڑھ جاتا ہے اور بدی میں حصہ لیتا ہے تو کتوں اور سؤروں سے بھی گرجاتا ہے۔یایوں کہو کہ وہ ترقی کرتاہے تو فرشتوں سے بھی بڑھ جاتا ہے اور گرتا ہے تو شیطانوں سے بھی نیچے چلا جاتا ہے۔گویا لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ میں بالقوّہ قویٰ کا ذکر ہے اور ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اور اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا میں بالظہور قویٰ کا ذکر ہے۔یعنی بالقوّہ تو سب کو اچھے قویٰ ملے ہیں مگر جب ان کا ظہور ہوتا ہے تو دو طرح ہوتا ہے۔یا تو انسان مومن بن جاتا ہے اور یا کافر بن جاتا ہے۔مومن بن کر اوپر کو نکل جاتا ہے اور کافر بن کر نیچے کی طرف گر جاتا ہے۔