تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 307

یہ آیات اس امر کا قطعی ثبوت ہیں کہ بعض مسلمانوں کا یہ خیال کہ انسان مجبور پیدا کیا گیا ہے بالکل غلط ہے۔انسان کو خدا نے اختیار دیا ہے کہ وہ اگر چاہے تو نیک بن جائے اور اگر چاہے تے شیطان کے پیچھے چل پڑے۔فطرت انسانی کے متعلق پانچواں نظریہ اور اس کی تردید پانچواں خیال انسانی فطرت کے متعلق یہ پایا جاتا ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنے کرموں کا پھل بھگتنے کے لئے پیدا ہوتا ہے۔چونکہ بعض کرم برے ہوتے ہیں اس لئے ان کے کرنے والے بد اخلاق اور غریب کمزور اور برے بنائے گئے ہیں مگر جو لوگ اچھے اور تندرست اور امیر ہیں وہ بھی درحقیقت بدی سے پوری طرح آزاد نہیں ہیں کیونکہ ان کا ایک دوسری جون میں آنا بتاتا ہے کہ گناہ کے اثر سے وہ پوری طرح آزاد نہیں ورنہ وہ جونوں کے چکر سے آزاد کر دیئے جاتے۔(ستیارتھ پرکاش باب ۹ صفحہ۲۴۷) عقیدہ تناسخ اور اس کی تردید یہ خیال جسے تناسخ کہتے ہیں اس پر پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ اس خیال کی بنیاد ظن اور تخمین پر ہے۔تناسخ کے ماننے والے کہتے ہیں دنیا میں ایک شخص اندھا کیوں پیدا ہوتا ہے۔لنگڑا لولا کیوں پیدا ہوتا ہے۔غریب اور نادار کیوں پیدا ہوتا ہے؟ یا ایک بچہ پیدا ہوتے ہی مر کیوں جاتا ہے؟ اور کیوں دنیا میں ہمیں یہ اختلاف نظر آتا ہے کہ ایک شخص امیر ہے تو دوسرا غریب ایک شخص صحیح سلامت ہے تو دوسرا لنگڑا لولا۔ایک شخص عقلمند ہے تو دوسرا بیوقوف۔ایک شخص طاقتور ہے تو دوسرا کمزور۔یہ اعتراض اٹھا کر تناسخ کے معتقد کہتے ہیں کہ چونکہ خدا کی طرف یہ ظلم منسوب نہیں ہو سکتا اس لئے معلوم ہوا کہ پچھلے جنم کے کرموں کی سزا بھگتنے کے لئے انسان اس دنیا میں آتا ہے چونکہ گزشتہ جنم میں بعض نے اچھے اعمال کئے تھے اور بعض نے برے اس لئے اس جہان میں بعض لوگ دکھوں میں مبتلا نظر آتے ہیں اور بعض لوگ عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ وہ بنیاد ہے جس پر تناسخ کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔حالانکہ یہ سوال کہ دنیا میں بعض لوگ اندھے کیوں پیدا ہوتے ہیں بعض لولے لنگڑے کیوں پیدا ہوتے ہیں۔بعض غریب اور مفلس اور نادار کیوں پیدا ہوتے ہیں؟اس کے کئی جواب ہو سکتے ہیں۔فرض کرو ایک شخص خدا کے انصاف کا قائل نہیں وہ اس اعتراض کا یہ جواب دے سکتا ہے کہ اس اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ خدا ظالم ہے۔ایک دوسرا شخص یہ جواب دے سکتا ہے کہ کسی کا اندھا یا لولا لنگڑا ہونا قانون شریعت سے تعلق نہیں رکھتابلکہ قانون نیچر سے تعلق رکھتا ہے۔ایک شخص چلتے چلتے ٹھوکر کھا کر گر جاتا ہے تو اس وقت یہ نہیں کہا جا ئے گا کہ اسے اپنے کسی سابق کرم کی سزا ملی ہے بلکہ یہ نتیجہ ہو گا کسی طبعی قانون کی خلاف ورزی کرنے کا۔اسی طرح اگر کوئی شخص اندھا پیدا ہوتا ہے یا لنگڑا پیدا ہوتا ہے یا بیمار پیدا ہوتا ہے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اسے اپنی کسی سابق بدعملی کی سزا مل رہی ہے بلکہ درحقیقت یہ کسی طبعی قانون کے وہ اثرات ہوں گے جو مختلف حالات کے نتیجہ میں اس کے جسم پر