تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 306

نصیحت حاصل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے مگر تم نے نصیحت حاصل نہ کی۔حالانکہ اگر یہ درست ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی فطرت میں خرابی رکھی گئی ہے اور وہ قانونِ الٰہی کی وجہ سے برے افعال کرنے پر مجبور ہے تو یہ جواب بالکل غلط تھا۔خدا تعالیٰ کو تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ میاں تم تو نیک ہو ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ میں نے تمہیں پیدا ہی اس غرض کے لئے کیا تھا کہ تمہیں دوزخ میں ڈالا جائے۔دوسرا عذر یہ ہو سکتا تھا کہ ہم تو نصیحت حاصل کر لیتے مگر چونکہ خدا نے ہماری ہدایت کا کوئی سامان نہ کیا اس لئے ہم نیکی سے محروم رہے! اللہ تعالیٰ اس عذر کو بھی توڑتا ہے اور فرماتا ہے وَ جَآءَكُمُ النَّذِيْرُ تم یہ عذر بھی نہیں کر سکتے کہ ہم نے تمہاری ہدایت کا کوئی سامان نہیں کیا کیونکہ ہماری طرف سے متواترتمہارے پاس نذیر آئے اور وہ تمہیں خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی اور اس کی ناراضگی کے برے نتائج سے ڈراتے رہے مگر تم نے پھر بھی کوئی توجہ نہ کی۔یہ دونوں جواب جبر کے عقیدہ کو بیخ و بن سے اکھیڑ کر پھینک دیتے ہیں اور ثابت ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو مجبور پیدا نہیں کیاورنہ جب کفار نے کہا تھا کہ ہمیں واپس کیا جائے ہم اعلیٰ درجہ کے اعمال بجا لانے کا وعدہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کہتا تم کس طرح نیک اعمال کر سکتے ہومیں نے توتم کو مجبور پیدا کیا تھا اور خود تمہاری فطرت میں ایسا بگاڑ رکھ دیا تھا کہ تم نیک اعمال پر مقدرت ہی نہیں رکھ سکتے تھے مگر وہ یہ جواب نہیں دیتا بلکہ جواب دیتا ہے تو یہ کہ میں نے تمہیں اتنی عمر دی تھی کہ جس میںاگر تم فائدہ اٹھانا چاہتے اور نصیحت حاصل کر کے اپنے اعمال میں اصلاح کرنا چاہتے تو آسانی سے کرسکتے تھے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ تم مجبور نہیں تھے بلکہ تمہارا اختیار تھا کہ تم جو رنگ چاہو اپنے اوپر چڑھالو اور تمہیں اس کا موقعہ بھی دے دیا گیا تھا۔دوسرا سوال یہ ہو سکتا تھا کہ ہم نصیحت تو حاصل کر لیتے مگر ذرائع بھی تو مہیا ہوتے۔ہم اپنی عقلوں کی کوتاہی اور باپ دادا کی جہالت کی وجہ سے اگر ہدایت کو اختیار نہیں کر سکے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ اللہ تعالیٰ اس عذر کو بھی رد کرتا ہے اور فرماتا ہے تم یہ بات بھی ہمارے سامنے پیش نہیں کر سکتے کیونکہ ہم نے تمہارے پاس نذیر بھجوا دیئے تھے اور اس طرح ہدایت اور ضلالت کی راہیں تم پر پوری طرح واضح کردی تھیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ تم ہمارے عذاب کو چکھو اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔یہ تیسرا جواب ہے جو جبر کے عقیدہ کو رد کر رہا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے جبری طور پر لوگوں کو برے افعال کے لئے پیدا کیا ہے تو ظالم نعوذباللہ خدا قرار پاتا ہے وہ شخص ظالم نہیں کہلا سکتا جس سے جبری طور پر کوئی کام لیا جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے یہاں لوگوں کو ظالم قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ ہم ظالم نہیں تھے بلکہ ظالم تم تھے کہ ہدایت کے سامانوں اور مواقع کے حصول کے باوجود تم نے خدا کی طرف توجہ نہ کی اور نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑے رہے۔