تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 27
اس لئے محض تابع ہونے کی وجہ سے ہر قمر کو ہر شمس سے ادنیٰ قرار نہیں دیاجا سکتا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پہلا شمس چونکہ شرعی نبی تھا اس لئے وہ سب قمروںسے بڑھ کر تھا سب قمروں سے بڑھ کر نہیںکہہ سکتے بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اپنے قمروں سے بڑھ کر تھا کیونکہ ہر قمر صرف اپنے شمس سے ادنیٰ ہوگا مگر اپنے شمس سے ادنیٰ قمر تمام دوسرے شموس سے بڑے درجہ کا ہو سکتا ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے آگ بالذات روشن ہے مگر قمر کے مقابلہ میںاس کی روشنی بہت ادنیٰ ہے یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۲۶) یعنی اے میرے شمسِ روحانی تو چونکہ بہت روشن تھا اس لئے تیرا قمر دوسرے تمام شموس سے اپنی روشنی میں بڑھ گیا۔اس نقطۂ نگاہ کے ماتحت ہمارا یقین ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی تمام انبیاء سے اپنے درجہ اور مقام کے لحاظ سے افضل ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دوسرے شموس سے کس طرح بڑھ سکتے ہیں مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام صاحبِ شریعت نبی تھے ان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مقام کس طرح بلند ہو گیا یا بعض اور قوموں میں جو صاحب ِ شریعت نبی گذرے ہیں ان سے آپ بڑے کس طرح قرار دیئے جا سکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک یہ انبیاء بڑے تھے مگر اُن شموس اور اس قمر میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے۔یہ بے شک قمر ہے مگر یہ قمر اس شمس کا ہے جو پہلے تمام شموس سے بہت زیادہ روشن تھا اس لئے یہ لازم تھا کہ اس شمس کا قمر اپنی روشنی میں پہلے شموس سے بھی بڑھ جا تا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی جگہ پر ایک ہزار لیمپ ہو اور ہر لیمپ کا ایک ایک ری فلیکٹرہو تو اگر اس ہزار لیمپ کے مقابلہ میںایک لیمپ ایسا ہو جس میں دو ہزار لیمپ کے برابر روشنی کی طاقت ہو تو اس کا ری فلیکٹر اپنی روشنی میں ایک ہزار لیمپ سے بڑھ جائے گا۔فرض کرو اس ہزار لیمپ میں سے کوئی پچاس کینڈل پاور کا ہے کوئی سو کینڈل پاور کا ہے اور اس طرح مجموعی طور پر ان کی طاقت دولاکھ کینڈل پاور کی بن جاتی ہے تو اگر ان کے مقابلہ میں تین لاکھ کینڈل پاور کا صرف ایک ہی لیمپ ہو تو اس کا ری فلیکٹر باقی تمام روشنیوں کو مات کر دے گا اور باوجود قمر ہونے کے دوسرے شموس پر غالب آجائے گا۔اس جگہ شمس و قمر سے مراد عام وجود بھی ہو سکتے ہیں۔اور شمس و قمر سے شمسِ اسلام اور قمرِاسلام بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ان دونوں شہادتوں سے یہ بتایا ہے کہ یہ دونوں وجود ابراہیمی پیشگوئی کی صداقت کا ثبوت ہوں گے اور مکہ کو