تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 305

ہیں پھر کیوں تاریکی کے بعد آفتاب ہدایت کا طلوع کرتے ہیں۔ہماری غرض اس سے یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں جو لوگ بد اور گنہگار ہوں اور جو ہدایت اور وعظ و تذکیر کے محتاج ہوں ان کو اس سلسلۂ رسالت کے نتیجہ میں نیک بنایا جائے اور جو لوگ فطری نیکی کے مقام پر کھڑے ہیں انہیں خدا کا کلام اور الہام اس سے بھی اعلیٰ مقام یعنی شکر کی طرف لے جائے۔غرض قرآن اس بات کو پیش کرتا ہے کہ ہر شخص کی اصلاح ہو سکتی ہے اگر اس نے انسان کو خرابی کے لئے ہی پیدا کیا ہوتا تو لیل و نہار کا یہ چکر جو تمہیں دنیا میں نظر آتا ہے نہ ہوتا۔اس کی بڑی اہم غرض یہی ہے کہ بدوںکو نیکی کی طرف لایا جائے اور نیکوں کو اعلیٰ درجہ کے روحانی مقام کی طرف کھینچا جائے۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَ هُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِيْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ (فاطر:۳۸) یعنی قیامت کے دن جب دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو وہ چیختے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کہیں گے کہ اے خدا ہمیں اس جہنم میں سے نکال نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیںکہ ہم اب اپنے سابق اعمال کے خلاف نہایت اعلیٰ درجہ کے کام کریں گے اور نیکی اور تقویٰ میں پوری طرح حصہ لیں گے۔پہلے ہم چوری کیا کرتے تھے مگر اب ہم چوری نہیں کریں گے۔پہلے ہم ڈاکہ ڈالا کرتے تھے مگر اب ہم ڈاکہ نہیں ڈالیں گے۔پہلے ہم جھوٹ بولا کرتے تھے مگر اب ہم جھوٹ نہیں بولیں گے۔پہلے ہم نبیوں کا مقابلہ کیا کرتے تھے مگر اب ہم ان کا مقابلہ نہیں کریں گے۔اگر یہ صحیح ہوتا کہ انسان پیدائشی طور پر گندہ اور ناپاک ہے تو اللہ تعالیٰ کو جواب یہ دینا چاہیے تھا کہ کم بختو تم یہ کیا کہہ رہے ہو کہ ہم آئندہ نیک اعمال بجا لائیں گے میں نے تو تمہیںپیدا ہی اس لیے کیا تھا کہ تم چوری کرتے تم ڈاکہ ڈالتے تم جھوٹ اور فریب سے کام لیتے۔تم نبیوں کا مقابلہ کرتے یا یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ تم نیکی کر ہی کس طرح سکتے ہو میں نے تو تمہاری فطرت میں خرابی رکھ دی ہے اور تم اس بات پر مجبور ہو کہ گناہوں اور بدیوںکا ارتکاب کرو مگر اللہ تعالیٰ یہ جواب نہیں دیتا بلکہ جواب یہ دیتا ہے کہ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ کیا ہم نے تم کو اتنی مہلت نہیںدی تھی کہ جس میں انسان اگر نصیحت حاصل کرنا چاہتا تو آسانی سے نصیحت حاصل کر سکتا تھا۔ہم نے تمہیںمہلت بھی دی تمہیں کافی عمربھی عطا کی مگر تم نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور اپنی عادات کی اصلاح کی طرف تم نے کوئی توجہ نہ کی۔اب تمہارا یہ کہنا کیا حقیقت رکھتا ہے کہ اگر ہمیںدنیا میں واپس لوٹا دیا جائے تو ہم ہمیشہ نیک عمل کریں گے۔تمہیں ہماری طرف سے ایک بہت بڑا موقعہ دیا جا چکا ہے مگر تم نے اس کو ضائع کر دیا۔اب دیکھو یہاں اللہ تعالیٰ جرم کو ان کی طرف منسوب کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم کو اتنی عمر دی گئی تھی کہ اگر تم