تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 302
پورا کرنے یا ان کو دور کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ بالکل اچھے ہو گئے۔گزشتہ جنگ عظیم کے بعد ہزاروں لوگ ایسے تھے جو گولہ باری کے صدمات کے نتیجہ میں پاگل ہو گئے تھے۔ان میں سے بعض تو اور علاجوں سے اچھے ہو گئے مگر بعض ایسے تھے جو کسی علاج سے بھی اچھے نہ ہوئے۔آخر گورنمنٹ کو خیال پیدا ہوا کہ ان مریضوں کا سائیکو انیلسس (تجزیۂ شہوات) کے ذریعہ کیوں نہ علاج کرایا جائے۔چنانچہ اس طرح ان کی تشخیص کروائی گئی تو کئی بیماروں کی نسبت معلوم ہوا کہ بظاہر وہ گولہ باری کے صدمہ کے نتیجہ میں پاگل ہوئے تھے۔لیکن در اصل ان کی بیماری کی وجہ بعض جذباتِ شدیدہ کا پورا نہ ہونا تھا۔جب ان کی بیماری کی اصل وجہ کا پتہ چل گیا تو اس کے مطابق علاج کرنے پر وہ بالکل اچھے ہو گئے حالانکہ اس سے پیشتر ان کے علاج کے لئے ہر قسم کی دوائیں استعمال کی جا چکی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ یورپ میں ایسے ہزاروں لوگ ہیں جو اس طریق علاج سے تندرست ہوئے۔ہمارا جواب یہ ہے کہ بے شک یورپ میں ایسے ہزاروں لوگ ہوں مگر ہمارے ملک میں تو اس قسم کا کوئی مریض نظر نہیں آتا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسانی بیماری نہیں بلکہ ایک مقامی بیماری ہے جو یورپ میں پیدا ہو چکی ہے۔اگر انسانی بیماری ہوتی تو ہندوستان میں بھی ہوتی۔مصر میں بھی ہوتی۔شام میں بھی ہوتی۔فلسطین میں بھی ہوتی۔چین اور جاپان میں بھی ہوتی مگر ہمیں دنیا کے اور کسی ملک میں یہ بیماری نظر نہیں آتی اگر آتی ہے تو صرف یورپ میں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ یورپ کا مخصوص مرض ہے۔تمام بنی نوع انسان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یورپ میں عام طور پر چونکہ گند اور خرابی میں لوگ مبتلا رہتے ہیں اور ایسے لوگوں کے خیالات بھی ناپاک ہوتے ہیںاس لئے وہ اس قسم کے ا مراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اور خواہشات کے پورا ہو جانے پر وہ اچھے ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں چونکہ عام طور پر خیالات میں پاکیزگی پائی جاتی ہے اور وہ گند یہاں نہیں جو یورپ میں نظر آتا ہے اس لئے یہاں کسی کو سائیکو انیلسس کے ذریعہ اپنا علاج کرانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔پس اگر یوروپین فلسفیوں کی یہ تھیوری درست ہے تب بھی ہم انہیں کہیں گے کہ یہ تمہاری مقامی بیماری ہے بنی نوع انسان کی بیماری نہیں لیکن بفرض محال اگر اسے بنی نوع انسان کی مرض سمجھ لیا جائے۔تب بھی ہم کہتے ہیں کہ تم نے یہ تو تسلیم کر لیا کہ خرابی کی اصلاح ہو سکتی ہے۔جب تم نے یہ تسلیم کر لیا تو قرآن کی اس آیت کی صداقت ثابت ہو گئی کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ یعنی ہماری سنت یہ ہے کہ ہم انسانی روح کے بیمار ہونے پر اس کو اچھا کرنے کے سامان مہیا کیا کرتے ہیں اور یہی فطرت انسانی کے پاک ہونے کے معنے ہیں کہ خدا نے اس کی ہدایت اور اصلاح کے سامان پیدا کئے ہوئے ہیں۔اگر انسان ان سے فائدہ اٹھا لے تو وہ پاکیزگی کا جامہ پہن لیتا ہے اور اگر فائدہ نہ