تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 299

باہر نکلا۔اسی طرح میں بھی صلیب پر سے زندہ اتروں گا۔زندگی کی حالت میں قبر میں جائوں گا اور پھر زندہ ہونے کی حالت میں ہی قبر سے باہر نکلوں گا۔پھر کفارہ کے خلاف ایک اور دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیحؑ جب صلیب سے بچ گئے تو اس کے بعد وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ کہیں دوبارہ دشمن ان کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہو جائے۔حالانکہ اگر وہ سچ مچ خدا کے بیٹے تھے یا حواریوں پر حضرت مسیحؑ کی روح ظاہر ہوئی تھی تو روح کو چھپنے کی کوئی ضرورت نہ تھی وہ ہر ایک کے سامنے آتی اور کہتی کہ ا گر تم میں طاقت ہے تو مجھے اب مار کر دکھائو۔مگر انجیل اس بات پر گواہ ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد وہ دشمن سے چھپتے پھرے۔پس حضرت مسیحؑ کے متعلق عیسائیوں کا یہ خیال کہ وہ بنی نوع انسان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہوگئے تھے شروع سے لے کر آخر تک باطل ہے۔انسانی پیدائش کے متعلق تیسرے نظریے کا رد انسانی پیدائش کے متعلق تیسرا خیال دنیا میں یہ پایا جاتا ہے کہ انسان کسی خاص ملکہ کو لے کر پیدا نہیں ہوا۔وہ اپنی تعلیم و تربیت سے متاثر ہوتا اور اس کے مطابق ہو جاتا ہے گویا وہ حالات سے مجبور ہے۔یہ فرائیڈاور دوسرے یورپین فلسفیوں کا خیال ہے ان کے نزدیک پیدائشی لحاظ سے انسان جانوروں کی سی حالت رکھتا ہے۔نہ اس میں نیکی کا ملکہ ہوتا ہے اور نہ بدی کا ملکہ ہوتا ہے ہاں جب وہ پیداہوجاتا ہے تو اپنے گردوپیش کے حالات سے متاثر ہوتا ہے اگر وہ حالات نیک ہوں تو نیک ہو جاتا ہے اور اگر بد ہوں تو بد ہو جاتا ہے۔بہرحال حالات سے مجبور ہو کر اس میں نیکی اور بدی کی مختلف کیفیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ہم کہتے ہیں اگر تو اس کا یہ مفہوم ہے کہ ہر بچہ اپنی ذات میں بغیر کسی گناہ کے اثر کے پیدا ہوتا ہے لیکن بعد میں حالات اس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ ان کے نتیجہ میں گندہ اور خراب ہو جاتا ہے تو اسلام کا بھی یہی عقیدہ ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُّوْلَدُ عَلٰی فِطْرَۃِ الْاِسْلَامِ حَتّٰی یُعْرِبَ عَنْہُ لِسَانُہٗ فَاَبَوَاہُ یُـھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّـرَانِہٖ اَوْ یُـمَجِّسَانِہٖ (المعجم الکبیر لطبرانی حدیث الاسود بن سـریع) ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔اس کے بعدماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔پس اگر فرائیڈ اور دوسرے یورپین فلسفیوں کی تھیوری یہ ہے کہ ہر بچہ فطرت صحیحہ لے کر دنیا میں آتا ہے لیکن اس کے بعد وہ حالات سے مجبور ہو کر بعض دفعہ گندہ اور ناپاک ہو جاتا ہے تو اس نتیجہ کے ہم بھی قائل ہیں اور یہ عین قرآن اور حدیث کے مطابق عقیدہ ہے۔مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا اس کی اصلاح ہو سکتی ہے یا نہیں۔اگر اصلاح نہیں ہو سکتی تو احسن تقویم بے کار ہو گئی لیکن اگر اصلاح ہو سکتی ہے تو پھر خواہ خراب حالات کے اثر سے انسان بگڑ جائے اس کی پیدائش کے متعلق یہ نہیں کہا جائے گا