تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 290
زمین کے پیٹ میں سے زندہ نکلوں گا اور کوئی شخص مجھے گرفتار کرکے ہلاک نہیں کرسکتا۔چونکہ یہ مضمون مسیحؑ کی وفات کا نہیں میں تفصیل میں نہیں جاتا مگر اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ مسیحی روایات کے مطابق مسیحؑ کو صرف دو تین گھنٹے صلیب پر لٹکایا گیا تھا۔چنانچہ انجیل سے ثابت ہے کہ چھ۶ پہر سے نو۹ پہر تک ان کو صلیب پر رکھا گیا(متی باب ۲۷ آیت ۴۵تا۵۴) اور یہ صرف تین گھنٹے بنتے ہیں۔مگر میرے نزدیک یہ اندازہ بھی پورے طور پر صحیح نہیں کہلاسکتا۔اس لئے کہ آپ کو صلیب پر لٹکانے کے بعد بڑے زور سے آندھی آگئی تھی اور چاروں طرف تاریکی ہی تاریکی چھا گئی تھی اس وجہ سے ہوسکتا ہے کہ آندھی اور تاریکی کی وجہ سے حضرت مسیحؑ کو صلیب پر سے اتار نے کا وقت لوگوں پر پوشیدہ رہا ہو اور انہوں نے قیاس سے کام لے کر وقت کی تعیین نو۹ پہر تک کردی ہو۔لیکن بہرحال اگر اس کو درست بھی تسلیم کرلیا جائے تب بھی یہ صرف تین گھنٹے بنتے ہیں حالانکہ صلیب پر تین دن سے سات دن تک لٹکانے سے بھی لوگ نہیں مرتے تھے۔ہمارے ملک میں عام طور پر لوگ صلیب کے یہ معنے سمجھتے ہیں کہ سینہ کی ہڈیوں اور ہاتھوں اور پائوں کی ہڈیوں میں میخیں گاڑ دی جاتی تھیں اور انسان فوری طور پر ہلاک ہوجاتا تھا۔لیکن یہ حقیقت کے خلاف ہے۔صلیب جس پر انسان کو لٹکایا جاتا تھا اس شکل کی ہوا کرتی تھی۔V جب کسی شخص کو صلیب پر لٹکانا ہوتا تھا تو اسے کھڑ اکرکے اس کے بازوئوں کو دائیں بائیں دو ڈنڈوں کے ساتھ باندھ دیتے تھے اور پھر اس کے بازوئوں کے نرم عضلات میں کیل گاڑ دئیےجاتے تھے۔اسی طرح ٹانگوں کی ہڈیوں میں نہیں بلکہ ان کے گوشت میں میخیں گاڑ دیتے تھے۔عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹانگوں، ہاتھوں اور سینہ کی ہڈیوں میں کیل گاڑے جاتے تھے اور چونکہ ہڈیوں میں کیل گاڑنا واقعہ میں ایسا خطرناک امر ہے کہ انسان اس کے بعد زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے وہ خیال کرتے ہیں کہ جو شخص صلیب پر لٹکایا جاتا ہوگا وہ جلدی ہی ہلاک ہوجاتا ہوگا۔مگر یہ درست نہیں۔جسم کی ہڈیوں میں نہیں بلکہ بازوئوں کے نرم عضلات میں کیل گاڑے جاتے تھے۔اسی طرح ٹانگوں کی ہڈیوں کے نیچے جو گوشت ہوتا ہے اس میں کیل گاڑے جاتے تھے۔بے شک یہ ایک تکلیف دہ چیز تھی مگر فوری طور پر موت کا موجب نہیں ہوسکتی تھی۔بلکہ جو لوگ قوی اور مضبوط ہوتے تھے وہ بعض دفعہ سات سات دن تک بھی نہیں مرتے تھے اور جو لوگ مرتے تھے ان میں سے اکثر فاقہ کی وجہ سے مرا کرتے تھے یا اس وجہ سے کہ زخموں میں کیڑے پڑ جاتے اور ان کا زہر ہلاکت کا موجب بن جاتا۔وہ ڈاکو یا باغی وغیرہ جو ساتویں دن تک بھی زندہ رہتے