تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 288
نگل جائے اور یونہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔‘‘ (یوناہ باب ۱ آیت۱۷) اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یونہ نبی مچھلی کے پیٹ میں کس طرح رہا؟ اس کے متعلق یونہ باب ۲ میں لکھا ہے کہ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گیا ’’ تب یونہ نے مچھلی کے پیٹ میں خداوند اپنے خدا سے دعا مانگی اور کہا کہ میں نے اپنی مصیبت میں خداوند کو پکارا اور اس نے میری سنی۔‘‘(یونہ باب۲آیت۱،۲ ) اس دعا سے جو مچھلی کے پیٹ میں یونہ نے کی ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ زندہ ہونے کی حالت میں مچھلی کے پیٹ میں گئے اور پھر اس کے پیٹ میں بھی زندہ رہے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیںکرتے رہے۔چنانچہ یونہ باب ۲ میں ایک لمبی دعا درج ہے جو مچھلی کے پیٹ میں انہوں نے مانگی اور جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ الٰہی مجھ پر اب تک کئی مصیبتیں آئی ہیں جن سے تو نے مجھے بچایا۔اب اس مصیبت سے بھی مجھے بچااور نجات بخش۔آخر خدا نے ان کی دعا کو سنا۔’’اور خداوند نے مچھلی سے کہااور اس نے یونہ کو خشکی پر اُگل دیا۔‘‘ (یونہ باب۲آیت۱۰) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ یونہ نبی کا معجزہ یہ تھا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تین دن رات زندہ رہا نہ یہ کہ مرنے کے بعد جی اٹھا۔یعنی بائیبل اس امر کوپیش نہیں کرتی کہ دیکھو یونہ خدا کا سچا نبی تھا کیونکہ وہ مر کر زندہ ہو گیا بلکہ بائیبل یونہ نبی کا معجزہ یہ پیش کرتی ہے کہ وہ زندہ ہونے کی حالت میں مچھلی کے پیٹ میں گیا اور پھر زندہ ہونے کی حالت میں ہی اس کے پیٹ میں رہا۔حالانکہ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گیا ہے ہو سکتا تھا کہ مچھلی اسے چبانے کی کوشش کرتی اور وہ مر جاتے۔اگر مچھلی اس وقت یونہ کو چبا لیتی تو وہ زندہ کس طرح رہتا؟ مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ بغیر چبانے کے وہ آپ کو نگل گئی۔پھر دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ گو وہ زندہ اس کے پیٹ میں چلے جاتے مگر اندر جا کر ہلاک ہو جاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں بھی ان کے لئے ہوا کا ایسا ذخیرہ رکھا کہ باوجود تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے وہ زندہ رہے اور پھر زندہ ہونے کی حالت میں ہی مچھلی کے پیٹ سے باہر آگئے۔حالانکہ مچھلی کے اُگلتے وقت بھی یہ خطرہ ہو سکتا تھا کہ اس کے گلے کے دبائو سے آپ مر جاتے مگر خدا تعالیٰ نے ہر مرحلہ پر آپ کی حفاظت کی اور جب مچھلی نے آپ کو اُگلا اس وقت بھی خدا نے آپ کی حفاظت کی نہ نگلتے وقت اس نے آپ کو چبایا نہ اگلتے وقت اس نے آپ کو چبایا۔نہ پیٹ میں رہتے وقت ہوا کا ذخیرہ کم ہوا۔پس یونہ نبی کا معجزہ کیا ہے؟ اس کا یہ معجزہ نہیں کہ وہ مر کر زندہ ہو گیا بلکہ اس کا معجزہ یہ ہے کہ مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے جو خطرناک حادثہ ہو سکتا تھا اس سے بچے رہے پھر پیٹ میں جا کر یہ خطرہ ہو سکتا تھا کہ آپ کو ہوا نہ پہنچتی اور دم گھٹ جانے کی وجہ سے آپ ہلاک ہو جاتے مگر اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی ایسا