تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 25
اپنے اندر ذاتی فضیلت رکھتے ہیںاور وہ دنیا کو چمکا دیتے ہیں اور دراصل ایسے ہی وجود دنیا کی اصلاح کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں۔اس کے بالمقابل بعض انفاس قمر کی حالت رکھتے ہیں اور اسی وقت دنیا کی ہدایت کا موجب ہوتے ہیں جب وہ سورج کے پیچھے آتے ہیں یعنی ان کا نور ذاتی نہیں بلکہ مکتسب ہوتا ہے۔ان دونوں حالتوں کو اللہ تعالیٰ نے بطور شاہد پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ اصلاح عالم بغیران دو قسم کے وجودوں کے نہیں ہو سکتی یا نفسِ کامل یا متبع کامل۔نفسِ کامل وہ ہے جس کا ذکر وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا میں آتا ہے۔اور متبع کامل وہ ہے جس کا ذکر وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا میں آتا ہے۔جب تک ان دونوں صفات میں سے کوئی ایک صفت موجود نہ ہو کوئی شخص اصلاح کا فرض سر انجام نہیں دے سکتا۔یا تو اصلاح کاکام وہ شخص کر سکتا ہے جو شمس ہو اور اللہ تعالیٰ نے اسے اس غرض کے لئے پیدا کیا ہو کہ وہ شریعت لائے اور یا پھر وہ ایسا متبع کامل ہو کہ اپنے متبوع کے نور کو لے کر اس غرض کو پورا کر دے جس کے لئے اسے دنیا میں بھیجا گیا تھا۔گویا اصل غرض شریعت سے ہوتی ہے۔جب شریعت ِلفظی موجود نہیں ہوتی اس وقت نفسِ کامل کے ذریعہ دنیا میں شریعت کو نازل کیا جاتا ہے اور جب شریعت ِ لفظی غائب نہیں ہوتی صرف عمل مفقود ہوتا ہے اس وقت ظلّی طورپر وہ شریعت دوبارہ متبع کامل پر نازل ہوتی ہے اور وہ دنیا میں قیامِ شریعت کا فرض سر انجام دے دیتا ہے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ آیا یہ اتفاقی بات ہے کہ ایک کو خدا تعالیٰ شریعت دے دیتا ہے اور ایک کو متبع بنا دیتا ہے اگر وہ یوں کرتا کہ متبع کو شریعت دے دیتا اور شریعت والے کو تابع کے مقام پر کھڑا کر دیتا تو کیا ایسا ہو جاتا؟ اس کے متعلق یہ امر سمجھ لینا چاہیے کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔صاحب ِ شریعت اور متبع محض اتفاق سے نہیں ہو جاتے بلکہ یہ دونوں الگ الگ استعدادیں ہیں اور شمس و قمر کی مثالوں میں یہ دونوں امر بیان کئے گئے ہیں۔چنانچہ یہ بتایا جا چکا ہے کہ استعداد ِ شمسی والا وجود پہلے آتا ہے اور استعدادِ قمری والے وجود پیچھے آتے ہیں جو اس کے کام کی تکمیل کرتے ہیں۔اس سے ایک اور استدلال بھی ہوتا ہے جس سے احمدیت کے ایک اہم مسئلہ پر روشنی پڑتی ہے اور وہ یہ کہ ہو سکتا ہے ایک شخص شمس ہو اپنے زمانہ کا اور دوسرے زمانہ کا قمر بننے کی اہلیت نہ رکھتا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص بڑے زمانہ کا قمر ہو مگر چھوٹے زمانہ کا شمس ہونے کی قابلیت نہ رکھتا ہو۔یہ الگ الگ قابلیتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر استعداد کو دیکھ کر فطری مناسبت کے لحاظ سے ان کو شمس و قمر کا مقام دیا ہے اس وجہ سے ایک زمانہ کا قمر خواہ کام کے لحاظ سے قمر ہو لیکن روحانیت کے لحاظ سے پہلے دور کے شمس سے زیادہ ہو سکتا ہے لیکن اپنے شمس سے زیادہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس نے روشنی اپنے شمس سے لی ہوتی ہے اور بوجہ اس کا نور مکتسب ہونے کے اپنے شمس سے بڑھنے کی طاقت کسی قمر میں نہیں ہوسکتی۔لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ وہ