تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 24

غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا کہ ہم دن کو پیش کرتے ہیںجب وہ سورج کو ظاہر کردے گا سورج سامنے نہیں ہو گا مگر دن اس بات کا ثبوت ہو گا کہ سورج ضرور چڑھا تھا۔چنانچہ دیکھ لو ابو بکر ؓ اور عمر ؓ کے زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت جس طرح ظاہر ہوئی اور اسلام کی دھاک دنیا کے قلوب پر بیٹھی یہ ظہور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہیں ہوا۔غرض روحانی اور جسمانی دن میں یہ فرق ہے کہ جسمانی دن کے وقت سورج موجود ہوتا ہے مگر روحانی نہا ر کا زمانہ وہ ہوتا ہے جب جسمانی طور پر سورج غائب ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’الوصیت ‘‘ میں اپنی وفات کی خبر دیتے ہوئے جماعت کو نصیحت فرمائی ہے کہ ’’تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیا مت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جائوں۔لیکن میں جب جائوں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میںاس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے ‘‘ (الوصیت، روحانی خزائی جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۵،۳۰۶) وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا پھر فرماتا ہے تیری امت پر ایک وہ زمانہ بھی آنے والا ہے جب سورج سے وہ اپنا منہ موڑ لے گی اور نَـہَار کی بجائے لَیْل کا زمانہ اس پر آجائے گا۔بجائے اس کے کہ امت ِ محمدیہ کے افراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل پیرا رہیں وہ آپ کے مقام کو بھول جائیں گے آپ کے احکام کو فراموش کر دیں گے اور عیاشیوں میں مبتلا ہو کر شیطانی راستوں کو اختیار کر لیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گاخواہ تم ہم کو بھول جائو ہم تمہیں نہیں بھول سکتے۔خواہ تم ہم سے روٹھ جائو ہم تمہیں نہیں چھوڑ سکتے۔چنانچہ جب رات ان پر چھا جائے گی اور دنیا بزبانِ حال ایک سورج کا مطالبہ کر رہی ہو گی اللہ تعالیٰ پھر ایک چاند کو جو سورج کا قائم مقام ہوتا ہے چڑھا دے گا اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روشنی لے کر اسے ساری دنیا میں پھیلا دے گا۔غرض اللہ تعالیٰ نے وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۔وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ بعض انفاس