تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 285

پانچویں اگر حضرت مسیحؑ کفارہ ہوئے ہیں تو ان کا کفارہ ہونا اسی صورت میں تسلیم کیا جا سکتا ہے جب وہ خوشی اور انتہائی بشاشت کے ساتھ کفارہ ہوئے ہوں۔جس شخص کو جبراً صلیب پر لٹکا دیا جائے اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنی خوشی سے لوگوں کے لئے قربان ہوا ہے۔اگر حضرت مسیحؑ واقعہ میں کفارہ ہونے کے لئے دنیا میں تشریف لائے تھے تو چاہیے تھا کہ وہ دوڑ کر صلیب پر چڑھتے اور خوش ہوتے کہ جس غرض کے لئے میں آیا تھا وہ آج پوری ہو رہی ہے۔مگر بائیبل میں لکھا ہے جب انہیں پتہ لگا کہ صبح مجھے صلیب پر لٹکایا جا نے والا ہے تو انہوں نے ساری رات دعائیں کرتے ہوئے گذاردی اور اپنے حواریوں سے بھی بار بار کہا کہ ’’جاگو اور دعا مانگو تاکہ امتحان میں نہ پڑو‘‘(متی باب۲۶ آیت ۴۱) حضرت مسیحؑ ایک پہاڑی پر دعائیں کر رہے تھے اور ان کے حواری نیچے تھے وہ گھبراہٹ کی حالت میں بار بار نیچے آتے اور دیکھتے کہ حواری دعائیں کر رہے ہیں یا نہیں۔مگر جب بھی آتے،دیکھتے کہ وہ سو رہے ہیں حضرت مسیحؑ پھر ان کو جگاتے اور چلے جاتے۔پھر نیچے آتے اور دیکھتے کہ حواریوں کی کیا حالت ہے مگر پھر ان کو سوتا پاتے۔آخر حضرت مسیحؑ ان پر ناراض ہوئے اور کہا کہ ’’کیا تم میرے ساتھ ایک گھنٹہ نہیں جاگ سکے‘‘ (متی باب ۲۶ آیت ۴۰ ) مگر شاگردوں پرپھر بھی کوئی اثر نہ ہوا۔اس دوران میں حضرت مسیحؑ نے جس بے قراری اور اضطراب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضوردعائیں کیںان کا ذکر انجیل میں اس طرح آتا ہے۔’’پھر یسوع ان کے ساتھ گتسمنی نامی ایک مقام میں آیا اور شاگردوں سے کہا یہاں بیٹھو جب تک میں وہاں جا کر دعا مانگوں۔تب اس نے پطرس اور زبدی کے دو بیٹے ساتھ لیے اور غمگین اور نہایت دلگیر ہونے لگا۔تب اس نے ان سے کہا کہ میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو اور کچھ آگے بڑھ کے مونہہ کے بل گرا اور دعا مانگتے ہوئے کہا کہ اے میرے باپ!اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گذر جائے تو بھی میری خواہش نہیں بلکہ تیری خواہش کے مطابق ہو۔تب شاگردوں کے پاس آیا اور انہیں سوتے پا کر پطرس سے کہا۔کیا تم میرے ساتھ ایک گھنٹہ نہیں جاگ سکے۔جاگو اور دعا مانگو تاکہ امتحان میں نہ پڑو۔روح تو مستعد پر جسم سست ہے پھر اس نے دوبارہ جا کر دعا مانگی اور کہا اے میرے باپ!اگر میرے پینے کے بغیر یہ پیالہ مجھ سے نہیں گذر سکتا تو تیری مرضی ہو۔اس نے آکے پھر انہیں سوتے پایا۔کیونکہ ان کی آنکھیں نیند سے بھاری تھیںاور انہیں چھوڑ کے پھر گیا اور وہی بات کہہ کر تیسری بار دعا مانگی۔تب اپنے شاگردوں کے پاس آکران سے کہا۔اب سوتے رہو اور آرام کرو۔دیکھو وہ گھڑی آپہنچی کہ