تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 284
اور ایک ایک شعشہ ایسا ہے جو خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا۔پس قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جس پر حضرت مسیحؑ کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں کہ’’ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی۔‘‘پھر اس کے ساتھ ہی حضرت مسیحؑ نے یہ خبر بھی دی تھی کہ وہ کتاب ’’تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی ‘‘یعنی اس کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا بلکہ قیامت تک چلتا چلا جائے گا۔کوئی زمانہ ایسا نہیں آئے گا جس میں لوگ اس کتاب کی ضرورت سے مستغنی ہوجائیں اور پھر یہ کہ ’’ وہ میری بزرگی کرے گی ‘‘ یعنی لوگ مجھے جھوٹا اور لعنتی قرار دیں گے وہ میری بزرگی کا اظہار کرے گا۔یہودی کہیں گے کہ میں صلیب پر مر کر لعنتی ہو گیا۔عیسائی کہیں گے کہ میں صلیب پر لٹک کر لوگوں کے گناہوں کے بدلے دوزخ میں چلا گیا۔مگر وہ کہے گا مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ( النسآء:۱۵۸) یہ بات غلط ہے کہ لوگوں نے اسے قتل کر دیا تھا یا صلیب پر لٹکا کر اسے لعنتی ثابت کر دیا تھا۔وہ قتل سے بھی محفوظ رہا تھا اور صلیب سے بھی محفوظ رہا تھا۔بے شک دوست دشمن نے اسے لعنتی ثابت کرنا چاہامگر خدا نے اسے عزت دی اور دشمن کو اس کے ارادوں میں ناکام کر دیا۔آخر میں حضرت مسیحؑ فرماتے ہیں۔یہ اس لئے ہو گاکہ ’’ وہ میری چیزوں سے پاوے گی اور تمہیں دکھا دے گی۔‘‘ میری چیزوں سے پانے کا یہ مفہوم نہیں کہ وہ مسیحؑ کا متبع ہو گا۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ اسے وہ تعلیم ملے گی جس میں تمام انبیاء کی تعلیمیں شامل ہوںگی۔نوحؑکی تعلیم بھی اس میں موجود ہو گی۔ابراہیم ؑکی تعلیم بھی اس میں موجود ہو گی۔موسٰی کی تعلیم بھی اس میں موجود ہو گی اور میری یعنی عیسٰیؑ کی تعلیم بھی اس میں موجود ہو گی اور اس طرح اس کی تعلیم جامع ہو گی تمام سابق انبیاء کی تعلیمات کی۔اور پھر وہ کتاب ایسی ہو گی جو ’’ تمہیں دکھا دے گی ‘‘ یعنی اس میں صرف زبانی باتیں نہیں ہوں گی بلکہ عملی طور پر وہ تمام سچائیوں کو روشن کر کے دنیا پر ان کو واضح کر دے گی۔یہ پیشگوئیاں صاف طور پر بتاتی ہیں کہ حضرت مسیحؑ کے بعد ایک ایسے وجود نے ابھی آنا تھا جو مسیحؑ سے زیادہ کامل ہوتا۔اور پھر مقدر یہ تھا کہ وہ ایک ایسی جامع اور بے مثل کتاب اپنے ساتھ لاتا جس میں تمام سچائیاں جمع ہوتیں۔جس میں شروع سے لے کر آخر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہوتا اور پھر عملی طور پر وہ کتاب تمام سچائیوں کو روشن کرنے والی ہوتی۔اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیحؑ نے واقعہ میں ساری دنیاکے گناہ اٹھا لئے تھے اگر دنیا کی نجات کے لئے ان پر ایمان لانا کافی تھااور اگر انسانی نجات کا آخری نقطہ وہی تھے تو ساری سچائیاں انہیں بتانی چاہئیں تھیں مگر وہ تو کہتے ہیں میں سب سچائیاں نہیں بتا سکتا ان کو میرے بعد آ نے والا بتائے گا۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیحؑ ناصری کے نزدیک ان کا اپنا وجود پیدائش عالم کا آخری نقطہ نہیں تھا بلکہ بعد میں آنے والا ایک اور وجود اس شرف اور عظمت کا مستحق تھا۔