تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 280

گنہگار آدم نہیں بلکہ حوّا تھی اور اس کی تحریک پر آدم بھی اس گناہ میںملوث ہوا۔اس پادری سے گفتگو کے دوران میں جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے میں نے اس سے پوچھا کہ بتائو شیطان نے پہلے آدم کو ورغلایاتھا یا حوّا کو؟کہنے لگا حوّا کو۔میں نے کہا حوّا کو ورغلانے سے شیطان کی کیا غرض تھی؟اس نے پہلے ہی آدم کو کیوں نہ ورغلا لیا۔وہ آدم کو چھوڑ کر حوّا کے پاس کیوں گیا تھا؟ پادری نے کہا اس لئے کہ حوّا جلدی قابو میں آسکتی تھی۔میں نے کہا تو پھر معلوم ہوا کہ حوّا میں گناہ کا مادہ زیادہ تھا اسی وجہ سے وہ پہلے آدمؑ کے پاس نہیںگیا کیونکہ اس نے سمجھا کہ آدم میرے دھوکا میں جلدی نہیں آسکتاوہ حوّا کے پاس گیا اور کامیاب ہو گیا۔اس کے بعد میں نے کہااب بتائو مسیحؑ حوّا کا بیٹا تھا یا آدم کا؟ کہنے لگا اس سوال سے آپ کا کیا مطلب ہے؟میں نے کہا کچھ مطلب ہو۔تم یہ بتائو کہ مسیحؑ آدم کا بیٹا تھا یا حوّا کا؟ کہنے لگا مریم کا بیٹا تھا۔میں نے کہا اچھا اگر گرم پانی میں سرد پانی ملا دیا جائے تو اس کی گرمی بڑھ جائے گی یا کم ہو گی؟ کہنے لگا کچھ گرم پانی کی گرمی کم ہو گی اور کچھ سرد پانی کی سردی کم ہو جائے گی۔میں نے کہا تو اب مسئلہ صاف ہو گیا۔اگر مسیحؑ بن باپ نہ ہوتا تو اسے باپ کی طرف سے اس روحانی طاقت میں سے حصہ ملتاجو آدم میں تھی اور ماں کی طرف سے اسے اس کمزوری میں سے حصہ ملتا جو حوّا میں تھی۔آدم کی طاقت اور حوّا کی کمزوری مل کر ورثہ کے گناہ کا اثر کچھ نہ کچھ کم کر دیتی مگر مسیحؑ بن باپ تھا جس کے معنے یہ ہیںکہ اس نے آدم کی طاقت سے حصہ نہیں لیا صرف حوّا کی کمزوری سے حصہ لیا ہے اب بتائو وہ مسیحؑ جو خالص حوّا کی نسل میں سے تھا جس کے متعلق تم تسلیم کرتے ہوکہ وہ آدم کی نسبت زیادہ گنہگار تھی وہ گناہوں سے پاک کس طرح ہو گیا وہ تو اور لوگوں کی نسبت زیادہ گنہگار ہوا کیونکہ اس نے خالص حوّا کا اثر ورثہ میں لیا ہے؟ کہنے لگا یہ کوئی اصول نہیںکیا مٹی میں سے سونا نہیں نکلتا؟ میں نے کہا اگر مٹی میں سے سونا نکل سکتا ہے تو بات حل ہوگئی جس طرح مٹی میں سے سونا نکل سکتا ہے اسی طرح آدمؑ کے بیٹے نیک بھی ہو سکتے ہیں۔کہنے لگا نہیں نہیں سونا تو سونے میں سے نکلتا ہے میں نے کہا تو پھر مسیحؑ ایک عورت کے بطن سے پیدا ہو کر پاک کس طرح ہو گیا؟سونا تو سونے میں سے نکلتا ہے مٹی میں سے نہیں نکلتا اور اگر سونا مٹی میں سے بھی نہیں نکلتا اور سونے میں سے بھی نہیں نکلتا تو وہ نکلتا کس چیز میں سے ہے؟ غرض اگر یہ درست ہے کہ مٹی میں سے سونا نکل سکتا ہے تو گنہگار آدم کی اولاد بھی نیک ہو سکتی ہے اور اگر مٹی میں سے سونا نہیں نکلتا بلکہ سونے میں سے سونا نکلتا ہے تو مسیحؑ ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر پاک نہیں ہو سکتا۔پس ان دونوں میں سے کوئی صورت لے لو عیسائی مذہب قائم نہیں رہ سکتا۔تیسرے ہم خود مسیحؑ کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو نیک کہتے ہیں یا نہیں۔جب اس نکتہ نگاہ سے ہم انجیل کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس میں یہ الفاظ نظر آتے ہیں کہ’’ اور دیکھو ایک نے آ کے اس سے کہا۔اے نیک استاد!