تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 274
اسے غیر نجات یافتہ کس طرح کہا جا سکتا ہے؟ پھر لکھا ہے نوحؑ نے خدا کے لئے ایک مذبح بنایااور اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔جب نوحؑ نے عبادت کی تو ’’خداوند نے خوشنودی کی بُو سونگھی اور خداوند نے اپنے دل میں کہاکہ انسان کے لئے میں زمین کو پھر کبھی لعنت نہ کروں گا‘‘ (پیدائش باب ۸ آیت۲۱ ) گویا نوحؑ کی عبادت اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئی کہ اس نے کہا۔میں زمین پر پھر کبھی لعنت نہیں کروں گا۔اب سوال یہ ہے کہ جب پہلی لعنت نوحؑنے دور کر دی تھی توآئندہ کون سی نئی لعنت پیدا ہوئی تھی جس سے فطرت انسانی مسخ ہو گئی اور جو مسیح نے آکر دور کی؟ پھر ان کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے ان کے متعلق بائیبل میں لکھا ہے کہ خدا نے ان کو فرمایا۔’’میں تجھے ایک بڑی قوم بنائوں گااور تجھ کو مبارک اور تیرا نام بڑا کروں گا۔اور تو ایک برکت ہو گااور ان کو جو تجھے برکت دیتے ہیں برکت دوں گااور اس کو جو تجھ پر لعنت کرتا ہے لعنتی کروں گااور دنیا کے سب گھرانے تجھ سے برکت پاویں گے۔‘‘ ( پیدائش باب۱۲ آیت ۲، ۳ ) اب دیکھو اس میں کتنی باتیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی بات یہ بیان کی گئی ہے کہ میں تجھ کو مبارک کروں گا۔یہ صاف بات ہے کہ خدا کا مبارک کیا ہوا انسان لعنتی نہیں ہو سکتا۔دوسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہ تو ایک برکت ہو گا یعنی تو مجسم برکت ہو گا۔اور تیسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہ نہ صرف تو مبارک ہو گا اور تیری وجہ سے دنیا برکت پائے گی بلکہ جو تجھے برکت دیں گے میں ان کو بھی برکت دوں گا۔یہی وہ فقرہ ہے جس کے جواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ دعا سکھائی کہ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُـحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَـمِیْدٌ مَّـجِیْدٌ۔(صحیح بخاری کتاب الدعوات باب الصلاۃ علی النبی) یعنی اے خدا ! تو نے جو ابراہیم ؑ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تجھے برکت دوں گااور تجھے برکت دینے والوں کو بھی برکت دوں گاہم تیرے اس وعدہ کے مطابق ابراہیمؑکو برکت دے رہے ہیںتو ہمارے گھروں کو بھی اپنی برکتوں سے بھر دے اور اپنے فضلوں سے ہمیں حصہ دے۔گویا ابراہیمؑکوبرکت دینے والے لعنتی نہیں ہوسکتے اور ابراہیمؑ پر لعنت کرنے والے کبھی اللہ تعالیٰ کی برکت سے حصہ نہیں لے سکتے۔عیسائی کہتے ہیں آدمؑ کے گناہ کی وجہ سے خدا نے دنیا پر لعنت کی اور یہاں سے یہ پتہ لگتا ہے کہ ابراہیمؑ اور اس سے تعلق رکھنے والے کبھی لعنتی نہیں ہوسکتے ہاں ابراہیمؑ کو لعنت کرنے والے ضرور لعنتی ہیں۔پس وہ عقیدہ جو آج کل عیسائیوںمیںپایا جاتا ہے اس حوالہ کی موجودگی میںبالکل غلط ثابت ہوتا ہے۔پھر ابراہیمؑ کے زما نہ میں ایک اور شخص تھے جن کا نام ملک صدق سالیم تھا۔ان کے متعلق خود انجیل میں لکھا ہے کہ