تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 271
کو تم برا کہتے ہو وہ بری نہیں بلکہ اچھی ہیں اور اگر فطرت بری ہے تو پھر جن امور کو تم برا کہتے ہو وہی نیکی کا معیار ہیں مگر خود انسانی فطرت ان امور کا انکار کرتی ہے چنانچہ یہ لوگ بھی اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور ظاہر ہونے سے ڈرتے ہیں جس سے ہمارے قیاس کی تصدیق ہوتی ہے۔انسان کے متعلق دوسرے غلط نظریے کا بطلان دوسرا عقیدہ یہ تھا کہ انسان بھلائی کو لے کر پیدا ہوا مگر آدم اوّل نے گناہ کیا اس لئے سب انسان گناہ پر مجبور ہیں۔اگر یہ لوگ دہریہ ہوتے تو ہم ان سے اور رنگ میں گفتگو کرتے لیکن یہ لوگ ایک مذہب کو ماننے والے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ خود ان کا اپنا مذہب اس عقیدہ کو رد کرتا ہے۔پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ عقیدہ درست ہے کہ آدم اوّل نے گناہ کیاجس کے نتیجہ میں اب ورثہ کا گناہ انسان کے اندر آ گیا ہے اور وہ اس سے بلا کسی اور امداد کے آزاد نہیں ہو سکتا۔تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے کی تمام مخلوق نجات سے محروم ہونی چاہیے۔کیونکہ کفارہ تو مسیحؑ نے پیش کیا ہے۔مسیحؑ کے کفارہ پر ایمان لانے والے تو نجات پا سکتے ہیں مگر پہلے لوگوں کی نجات اس عقیدہ کی رو سے قطعی طور پر نا ممکن ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا فطرت کی اس اصلاح یعنی کفارہ مسیحؑ سے پہلے سب لوگ گنہگار اور غیر ناجی تھے؟ اس کا جواب خود بائیبل دیتی ہے کہ وہ آدم کو لعنتی قرار نہیں دیتی بلکہ شیطان سے دھوکا کھانے کے بعد بھی خدا اس پر راضی رہتا ہے۔چنانچہ بائیبل میں لکھا ہے کہ جب آدم نے گناہ کیا اور اس کے نتیجہ میں وہ ننگا ہو گیا تو ’’خداوند خدا نے آدم اور اس کی جوروکے واسطے چمڑے کے کرتے بناکے ان کو پہنائے ‘‘(پیدائش باب ۳ آیت۲۱) اگر آدم سے خدا ناراض ہو چکا تھا اور اسے اپنی روحانی اولاد سے وہ خارج کر چکا تھا۔تو چاہیے تھا کہ اس واقعہ کے بعد آدم پر ناراضگی کا اظہار ہوتا۔نہ یہ کہ اسے اور اس کی بیوی کو چمڑے کے کپڑے بنوا کر دیتا اور ان کے ننگ کو ڈھانکتا۔اللہ تعالیٰ کا آدم اور اس کی بیوی کو اس واقعہ کے بعد چمڑے کے کپڑے بنوا کر دینا بتا رہا ہے کہ خدا تعالیٰ اس واقعہ کے بعد بھی آدم سے راضی رہا۔پھر لکھا ہے۔فرشتوں سے خدا نے کہا ’’دیکھو کہ انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا‘‘ ( پیدائش باب ۳ آیت ۲۲) یعنی نیکی اور بدی کی پہچان میں آدم خدا اور اس کے فرشتوں جیسا ہو گیا ہے جو شخص نیکی اور بدی کی پہچان میں خدا اور اس کے فرشتوں جیسا ہو جائے وہ لعنتی کس طرح ہو سکتا ہے یہ تو ایک اعلیٰ درجے کا مقام ہے جو آدم کو حاصل ہوا۔آدمؑ کے بعدحنوک آئے جو حضرت نوحؑکے پردادا تھے ان کے بارہ میں لکھا ہے ’’حنوک کی ساری عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا اور غائب ہو گیا اس لئے کہ خدا نے اسے لے لیا‘‘ (پیدائش باب ۵ آیت۲۴) اس آیت کا خلاصہ بائیبل میں اس طرح درج کیا گیا ہے۔’’حنوک کی دینداری اور اس