تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 269
جائے۔بہرحال اگر بدھوں کی طرف سے کہا جائے کہ ہمارا مدعا یہ ہے کہ انسان نیک خواہش کرے تو معلوم ہوا کہ نیکی کا مادہ اس میں موجود ہے اور اس کی خواہش اسے کرنی چاہیے اور جب خواہش کرنی ثابت ہوئی تو پھر ہم سوال کریں گے کہ وہ کون سی بات فطرت میں ہے جسے برا کہا جا سکتا ہے۔فطرت میں تو جس قدر تقاضے پائے جاتے ہیں سب کے سب اچھے ہیں صرف ان کا غلط استعمال انسان کو برا بنا دیتا ہے مثلاً فطرت یہ کہتی ہے کہ کھانا کھائو وہ یہ نہیں کہتی کہ زید کا کھانا اٹھا کر کھا جائو اگر تم زید کا کھانا اٹھا کر کھا جاتے ہو تو یہ تمہارا اپنا قصور ہے فطرت نے تمہیں یہ نہیں کہا تھا کہ تم زید کا کھانا کھائو۔اس نے صرف اتنا کہا تھا کہ کھانا کھائو۔دوسرے کی روٹی اٹھا کر کھا جانے کا خیال تمہارے دل میں اس وقت آتا ہے جب تم کہتے ہو کہ روٹی میرے پاس موجود نہیںاور بھوک لگی ہوئی ہے اس وقت تم فطرت کے اس تقاضا کا غلط استعمال کرکے کسی اور شخص کا کھا نا چرا کر کھا جاتے ہو۔ورنہ فطرت نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ کھانا کھائو۔یہ نہیں کہا تھا کہ زید یا بکر کا کھانا کھا جائو۔یا مثلاً جب شادی کی خواہش انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے تو فطرت اسے اتنا ہی کہتی ہے کہ شادی کر لو۔یہ نہیں کہتی کہ کسی دوسرے کی بیوی کو اڑا لو۔یا مثلاًفطرت یہ تو کہتی ہے کہ مال خرچ کرو مگر یہ نہیں کہتی کہ بے موقعہ اور بے محل اپنا مال خرچ کرتے چلے جائو۔یہ بگاڑجو بعد میں پیدا ہوتے ہیں انسانی ماحول اور اس کے مختلف حالات کا نتیجہ ہو تا ہے۔ورنہ فطرت ان امور کی طرف انسان کی رہنمائی نہیں کرتی۔اسی طرح مثلاً شجاعت کا مادہ ہے جو فطرت میں پایا جاتا ہے۔بسا اوقات انسان اپنی جان یا اپنے مال کی قربانی کرکے دوسروں کو بڑے بڑے نقصانات سے بچا لیتا ہے لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ظلم پر آمادہ ہو جاتا ہے۔اب ظلم کوئی الگ خاصہ نہیں بلکہ شجاعت کے ایک فطری مادے کا غلط استعمال ہے۔خدا نے یہ مادہ انسان میں اس لئے رکھا تھا کہ وہ دوسروں کے لئے قربانی کرے مگر بعض دفعہ یہ اس تقاضے کا غلط استعمال کر کے دوسروں کے حقوق کو غصب کر لیتا ہے۔یا مثلاً ترقی کا جذبہ ہر انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے۔مگر جب اس جذبہ کوبرے طور پر استعمال کیا جائے تو اس سے حسد پیدا ہوتا ہے یعنی انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ صرف میں ہی آگے بڑھوں اور کوئی نہ بڑھے۔بہرحال جب فطرت میں کوئی ایسی بات نہیں رکھی گئی جسے برا کہا جا سکتا ہو۔صرف فطری جذبات اور تقاضوں کا غلط استعمال برا ہوتاہے تو سوال صرف اتنا رہ جائے گا کہ کیا خدا تعالیٰ نے شجاعت، سخاوت اور محبت وغیرہ اچھے کاموں کے لئے پیدا کی ہے یا برے کاموں کے لئے۔اگر کہو کہ برے کاموں کے لئے تو برا کام ہی نیکی ہوا کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی اس میں ہے۔ورنہ خدا تعالیٰ پر اعتراض آئے گا کہ اس نے ان قوتوں کو پیدا تو اس لئے کیا تھا کہ برے کام کئے جائیں مگر جب برے کام کئے جاتے ہیں تو وہ ناراض ہوتا ہے۔اور اگر کہو کہ اچھے