تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 268
جائے بلکہ بیماری کی خواہش کی جائے۔خوبصورت بیوی کی خواہش نہ کی جائے بلکہ بد صورت بیوی کی خواہش کی جائے۔علم کی خواہش نہ کی جائے بلکہ جہالت کی خواہش کی جائے تو تم بالمقابل کی خواہشات ہماری طرف منسوب کر دیتے ہو۔حالانکہ ہمارا نظریہ تو یہ ہے کہ خواہشات ہر حالت میں بری ہیں خواہ وہ اچھی چیزوںکی ہوں یا بری چیزوں کی ہوں ہم خواہش کو مٹانا چاہتے ہیں یہ نہیںکہتے کہ اچھی خواہش نہ کرو بری خواہش کرو بلکہ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ نہ اچھی خواہش کی جائے نہ بری کیونکہ اسی میں انسان کی نجات ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اچھا ہم مان لیتے ہیں تمہارا یہی مقصد ہے تم یہی کہتے ہو کہ نہ یہ چاہو نہ وہ چاہو مگرسوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں انسان کام کس طرح کرے گا؟ باپ اس سے شادی کے متعلق پوچھے گا تو وہ کہے گا نہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں نہ کنوارہ رہنا چاہتا ہوں۔ایک شادی شدہ بدھ اپنے گھر میں جاتا ہے بیوی اس سے کہتی ہے کہ کھانا تیار ہے آئو اور کھالو۔وہ جواب دے گا نہ میں کھانا چاہتا ہوں نہ بھوکا رہنا چاہتا ہوں۔غرض یہ عقیدہ اگر درست تسلیم کر لیا جائے تو بدھوں کو قدم قدم پر نہایت سخت مشکلات پیش آسکتی ہیں فرض کرو کسی مجلس میں بدھ مذہب کا کوئی پیرو آجائے تو وہ حیران ہوگا کہ میں اس مجلس میں بیٹھوں یا چلا جائوں اگر وہ بیٹھے گا تو یہ بھی خواہش کا نتیجہ ہوگا اور اگر چلا جائے گا تو یہ بھی خواہش کا نتیجہ ہوگا۔غرض ایک بدھ ایسے چکر میں پھنس جاتا ہے کہ اس کے لئے اٹھک بیٹھک کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔حکومت کے بارہ میںاس سے سوال کیا جائے گا کہ کیسی حکومت چاہتے ہو تو وہ جواب دے گا کہ نہ میں اچھی حکومت چاہتا ہوں نہ بری حکومت چاہتا ہوں۔اگر سوال کیا جائے گا کہ میاں منظم حکومت چاہتے ہو یا انارکی؟تو وہ کہے گا کہ نہ میں منظم حکومت چاہتا ہوں نہ انارکی۔ووٹ کے متعلق حاضرہوگا اور اس سے پوچھا جائے گاکہ اس ممبر کو ووٹ دینا چاہتے ہویااس کو؟ تو وہ کہے گا کہ نہ میں اس کو ووٹ دینا چاہتاہوںاور نہ اس کو۔پولنگ افسر کہے گا تو پھر جائو تم آئے کس لئے تھے وہ کہے گا نہ میں جانا چاہتا ہوںنہ کھڑا رہنا چاہتا ہوں۔غرض یہ عقیدہ ایسا غلط اور بے بنیاد ہے کہ اس کی جس قدر بھی تشریح کی جائے سوائے ہنسی اور مذاق کے اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔اگر کہا جائے کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ انسان نیک خواہش کرے تو معلوم ہوا کہ نیکی کا مادہ اس میں موجود ہے اور یہی ہم کہتے ہیںکہ انسان میں نیک خواہشات بھی پائی جاتی ہیں اور بری بھی۔جب کوئی شخص اپنے فطرتی تقاضوں کو عقل اور مصلحت کے ماتحت استعمال کرتا ہے تو وہ نیک کہلاتا ہے اور جب فطری تقاضوں کو عقل اور مصلحت کے خلاف استعمال کرتا ہے تو برا کہلاتا ہے ایسی صورت میں صحیح طریق یہ ہوتا ہے کہ فطرت کو ابھارا جائے اور طبعی تقاضوں کے غلط استعمال سے انسان کو بچایا جائے نہ یہ کہ انسانی فطرت کو ہی گندا اور ناپاک قرار دے دیا