تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 267
آجائے یا اچھی تجارت شروع کر دے بدھ مذہب اسے کیا کہے گا؟کیا یہ کہے گا کہ اچھی تجارت کی خواہش نہ کرو بلکہ گھاٹے والی تجارت کی خواہش کرو یا اچھی ملازمت تلاش نہ کرو بلکہ بری ملازمت تلاش کرو؟یا اچھی فصل کی خواہش نہ کرو بلکہ تباہ ہونے والی فصل چاہو؟انسان صحت چاہتا ہے۔بدھ مذہب کہتا ہے خواہش بری چیز ہے ایسی حالت میں جب انسان کہے گا کہ مجھے صحت کی خواہش ہے تو بدھ مذہب کہے گا صحت کی خواہش کر کے تم گنہگار بن گئے ہو تمہیں تو چاہیے کہ بیماری کی خواہش کرو۔انسان اپنے ہمسایہ سے صلح چاہتا ہے اپنے ملک میں امن چاہتا ہے کیا بدھ مذہب کی طرف سے اسے کہا جائے گا کہ اپنے ہمسایہ سے ہمیشہ لڑائی رکھو؟اور ملک میں فساد برپا کرتے رہو؟انسان اچھی حکومت کا تقاضا کرتا ہے۔کیا اسے کہا جائے گا کہ بری حکومت چاہو؟انسان چاہتا ہے اسے خدا کی رضا حاصل ہو جب بدھ مذہب خواہش کو براقرار دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کو ہمیشہ یہ خواہش رکھنی چاہیے کہ خدا مجھ سے ناراض رہے۔ایک بدھ مذہب والا چاہتا ہے کہ اس کا مذہب پھیل جائے مگر جونہی اس کے دل میںیہ خواہش پیداہوگی وہ نجات سے محروم ہو جائے گا۔جب ایک شخص بھکشو بننے کے لئے آتا ہے تو آخراسی لئے کہ وہ چاہتا ہے مجھے نجات مل جائے حالانکہ بھکشو بنتے ہی اس کی نجات ماری جاتی ہے کیونکہ اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ میں اور لوگوں کو بھی اس مذہب میں داخل کروںبلکہ اس سے بڑھ کر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ لوگوں کو بھکشو بنانے کا ارادہ کر کے خود بدھ کی نجات بھی ماری گئی کیونکہ اس کے دل میں یہ خواہش پید ا ہو گئی تھی کہ میں لوگوں کو بھکشو بنائوں پھر اگر بدھ مذہب کے لوگ اپنے ملک کی آزادی چاہتے ہیں تو اس تعلیم کے ماتحت انہیں کیا کہا جائے گا؟کیا یہ کہا جائے گا کہ آزادی کی خواہش نہ کرو۔اگر تمہارے ملک پر کوئی قبضہ کرنا چاہتا ہے تو اسے بے شک کرنے دو۔ورنہ نجات سے محروم ہو جائو گے۔اگر بدھ مذہب والے کہیں کہ یہ تو جائز اور اچھی خواہشات ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ تم بھی اس امر کو تسلیم کرتے ہو کہ خواہشات اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اچھی خواہشات کے پیچھے چلے اور بری خواہشات کو جامۂ عمل پہنانے کی کوشش نہ کرے۔پس تمہارا یہ کہنا کہ چونکہ انسان میں خواہشات پائی جاتی ہیں اس لئے وہ پیدائشی طور پر برا ہے بالکل غلط ہوا۔تم نے خود تسلیم کر لیا کہ خواہشات اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی۔بری خواہشات کو مٹانا اور اچھی خواہشات کو قائم کر نا ہمارا فرض ہے اور یہی وہ نقطئہ نگاہ ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔پس ہمارا اور تمہارا اتحاد ہو گیا۔ایک بدھ مذہب والا ہماری اس تنقید پر یہ کہہ سکتا ہے کہ تم ہمارے مذہب کو غلط طور پر پیش کرتے ہو۔جب تم کہتے ہو کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ آزادی کی خواہش نہ کی جائے بلکہ غلامی کی خواہش کی جائے۔صحت کی خواہش نہ کی