تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 23
مخالفت کاایک طوفان بپا کرتے ہیں۔کوئی گالی نہیں ہوتی جو اسے نہ دی جائے، کوئی الزام نہیں ہوتا جو اس کے متعلق تراشانہ جائے۔ہر کوشش کا ماحصل یہی ہوتاہے کہ کہیںاس سورج کی ضیاء دنیا میں نہ پھیل جائے۔مگر جب وہ سورج دنیا کی جسمانی نظروں سے غائب ہو جاتا ہے تو اس کی روشنی بڑھنے لگتی ہے اور لوگ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ بڑا اچھا آدمی تھا ہم بھی اسے مانتے ہیں، ہم بھی اس پر ایمان لاتے ہیں۔یہی اثر تھا جس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک دفعہ ایسا رلایا کہ میدہ کے نرم نرم پھلکے کا ایک لقمہ تک ان کے گلے سے نیچے اترنامشکل ہو گیا۔جب کسریٰ کو شکست ہوئی اور مالِ غنیمت مسلمانو ںکے ہاتھ آیا تو ان میں کچھ ہوائی چکیاں بھی تھیں جن سے باریک آٹا پیسا جاتا تھا اس سے پہلے مکہ اور مدینہ کے رہنے والے سل بٹہ پر دانوں کوپیس لیا کرتے اور پھونکوں سے اس کے چھلکے اڑا کر روٹی پکا لیا کرتے تھے۔جب مدینہ میں ہوائی چکیاں آئیں اور ان سے باریک میدہ تیار کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ پہلا آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش کیا جائے تا کہ سب سے پہلے آپ ہی اس آٹے کی نرم نرم روٹی کھائیں۔چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق وہ آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش ہوا۔آپ نے ایک عورت کو دیا کہ وہ اسے گوندھ کر روٹی تیار کرے۔جب میدے کے گرم گرم اور نرم نرم پُھلکے تیا ر کر کے آپ کے سامنے لائے گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے ایک لقمہ توڑا اور اپنے منہ میں رکھ لیا مگر وہ لقمہ ابھی آپ نے اپنے منہ میں ڈالا ہی تھا کہ آپ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوگرنے لگے دیکھنے والی عورتیں حیران رہ گئیں کہ آپ کے آنسو کیوں گرنے لگے ہیں۔چنانچہ کسی نے آپ سے پوچھا خیر تو ہے کیسی عمدہ اور نرم روٹی ہے اور آپ کے گلے میں پھنس رہی ہے؟ انہوںنے جواب دیا میرے گلے میں یہ روٹی اپنی خشکی کی وجہ سے نہیں پھنسی بلکہ اپنی نرمی کے باعث پھنسی ہے۔رنج کے واقعات نے مجھے رنجیدہ نہیں کیا بلکہ خوشی کی گھڑیوں نے مجھے افسردہ بنا دیا ہے۔ایک زمانہ تھا جب محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے انہی کی برکت سے آج یہ نعمتیںہمیں میسر ہیں مگر آپ کا یہ حال تھا کہ مدتوں گھر میں آگ نہیں جلتی تھی اور اگر روٹی پکتی بھی تو اس طرح کہ ہم سل بٹہ پر غلہ پیس لیا کرتے اور پھونکوں سے اس کے چھلکے اڑا کر روٹی پکا لیا کرتے۔مجھے خیال آتا ہے کہ یہ نعمتیں جس کے طفیل ہمیں میسر آئی ہیں وہ تو آج ہم میں نہیں کہ ہم یہ نعمتیں اس کے سامنے پیش کرتے اور دولتیں اس کے قدموں پر نثار کرتے لیکن ہم جن کا ان کامیابیوں کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔یہ خیال تھا جس نے مجھے تڑپا دیا اور جس کی وجہ سے میدے کا نرم نرم لقمہ بھی میرے گلے میں پھنس گیا۔تو روحانی عالم میں یہی قانون جاری ہے کہ نَـہَار اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب سورج نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔