تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 265
جاتا۔بعض باتیں جو بچہ کرتا ہے اور جن کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ بری ہیں وہ بری باتیں نہیں ہوتیں اس لئے کہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا علم سے تعلق ہوتا ہے۔مثلاً کسی کا مال نہیںاُٹھانا چاہیے یہ ایک خوبی ہے جو ہر شخص میں ہونی چاہیے اور اگر کسی شخص میں یہ بات نہ پائی جائے تو ہم یقیناً اس کو برا کہیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ہم اسی کو برا کہیں گے جو دوسرے کی ملک کا مفہوم سمجھتاہو۔اور جانتا ہو کہ مال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک انسان کا اپنا مال ہوتا ہے اور ایک مال دوسرے کا ہوتا ہے۔جو چیز کسی دوسرے کی ملکیت میں ہو وہ اٹھانی نہیں چاہیے۔جب تک یہ مفہوم کوئی شخص پوری طرح نہ سمجھتا ہو ہم اسے مجرم قرار دے کر اس کے فعل کو برا نہیں کہہ سکتے۔اس نکتہء نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ بچہ بے شک بعض دفعہ دوسروں کی چیز اٹھا لیتا ہے مگر ہم اس سے اس کی فطرت کی برائی کا استدلال نہیں کرسکتے۔یہ نہیں کہہ سکتے کہ دیکھو اگر بچہ کی فطرت میں نیکی تھی تو اس نے دوسرے کا مال کیوں اٹھایا؟ اس لئے کہ اسے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ملکیت کا کیا مفہوم ہے یا یہ کہ دوسرے کا کون سا مال ہوتا ہے؟ نہ وہ ملکیت کے معنے جانتا ہے۔نہ دوسرے کے مال کی حقیقت کو جانتا ہے۔یہ چیزیں ایسی ہیں جو اس کے دائرہ عمل سے باہر ہوتی ہیں اور جو چیزیں بچہ کے دائرہ عمل سے باہر ہوں ان کو برایا بھلا نہیں کہا جاسکتا۔انسان کے متعلق پہلے غلط نظریے کا بطلان فلسفیانہ طور پر یہ عقیدہ کہ انسان برائی کے میلان کو لے کر پیدا ہوا ہے بدھوں کا ہے۔ان کے نزدیک انسان کی فطرت بری ہے اور جب بر ی ہے تو انسان کے اندر جو خواہش بھی پیدا ہوتی ہے وہ بری ہے۔اس لئے ان کا عقیدہ ہے کہ نجات کامل حاصل کرنے کے لئے خواہش کو مارنا چاہیے۔جب تک ہم اپنی خواہشات کو مارتے نہیں اس وقت تک کامل نجات حاصل نہیں کرسکتے۔مگر یہ بات عقلاً باطل ہے اس لئے کہ خواہشات کس چیز کا نام ہے؟ خواہشات نام ہے کھانے پینے کا، شادی کرنے کا، ایک دوسرے سے ملنے جلنے اور تعلقات قائم کرنے کا، روزی کمانے کا، علم پڑھنے کا، عبادت وغیرہ کرنے کا۔یہی خواہشات ہیں جو انسان کے اندر پائی جاتی ہیں۔لیکن جب ہم بدھ مذہب کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ شادی سے صرف بھکشو کو روکتا ہے۔حالانکہ نجات تو وہ سب دنیا کو دینا چاہتا ہے۔اب اگر نجات خواہش مٹانے کا نام ہے تو جو بدھ مذہب والا ارادہ کرے گا کہ میں نکاح کروں اس کی نجات کس طرح ہوگی؟ آخر یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جس طرح ناک انسان کو بغیر کسی ارادہ کے مل گیا ہے، جس طرح کان انسان کو بغیر کسی ارادہ کے مل گئے ہیں، جس طرح زبان انسان کو بغیر ارادہ کے مل گئی ہے اسی طرح بیوی بھی بغیر کسی ارادہ کے مل جائے۔نہ ماں باپ کو علم ہو کہ فلاں ہماری بہو بننے والی ہے، نہ