تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 264
مختلف جونوں کے چکر میں اسے جانا پڑتا ہے۔تیسرا مسلمانوں کا غلط العام عقیدہ ہے کہ وہ جبر کی وجہ خدا تعالیٰ کے فعل کو کہتاہے یعنی کچھ انسان اچھے بنائے گئے ہیں اور کچھ برے۔جن کو اچھا بنایا گیا ہے ان کو اچھی فطرت دے دی گئی ہے اور جن کوبرا بنایا گیا ہے ان کو بری فطرت دے دی گئی ہے۔چوتھا فلاسفۂ جدیدہ کا عقیدہ ہے کہ وہ انسان کو آزاد نہیں کہتے گو وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے یا انسان کے اپنے یا اس کے کسی دادا کے فعل کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا۔بلکہ ورثہ طبعی یا ماحول کے نتیجہ میں وہ مجبور ہوجاتا ہے۔کچھ لوگ جن کے اندر ورثہ ء طبعی کے طور پر بعض طاقتیں آجاتی ہیں یا جو اچھے کام کرنے والوں کے ماحول میں رہتے ہیں وہ اچھے کام کرنے لگ جاتے ہیں اور کچھ لوگ جن کے اندر ورثہ ء طبعی کے طور پر بعض کمزوریاں آجاتی ہیں یا جو برے کام کرنے والوں کے ماحول میں رہتے ہیں وہ برے کام کرنے لگ جاتے ہیں۔اس میں ان کا اپنا کوئی اختیا رنہیں ہوتا۔ماحول ان کی فطرت کو بدل دیتا ہے۔یہ عقیدہ کہ انسان بری فطرت لے کر دنیا میں آیا ہے اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب کا عقیدہ ہے چنانچہ وہ عقائد جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان میں سے قریباً ہر عقیدہ میں یہ بات پائی جاتی ہے اور عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گناہ اصل ہے جس کو مٹانا ہمارا فرض ہے۔عوام الناس تو اس بات کے اس طرح قائل ہیں کہ وہ کہتے ہیں غلطی کرنابشر کاکام ہے۔بُدھوں کے نزدیک ہر انسان بری فطرت لے کر آیا ہے اور باقی عقائد بھی ایسے ہیں کہ اگر ان میں انسان کی کوئی خوبی تسلیم بھی کی جاتی ہے تو برے معنوں میں۔مثلاً کہا جاتا ہے کہ انسان حالات سے مجبورہوتا ہے اگر اس کے لئے اچھا ماحول میسر آجائے تو وہ اچھا ہوجاتا ہے اور اگر برا ماحول میسر آجائے تو وہ برا ہوجاتا ہے۔اس عقیدہ میں گو انسان کی نیکی کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے لیکن ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ کوئی نیکی نہیں۔اگر کوئی شخص جبراً نیکی کرتا ہے تو اس کی نیکی حقیقی نیکی نہیں کہلاسکتی۔حقیقی نیکی وہی ہوتی ہے جس میں جبر اور اکراہ کا کوئی پہلو نہ ہو۔بہرحال قریباً سب مذاہب سوائے اسلام کے اس بات کے قائل ہیں کہ انسان بری فطرت لے کر آیا ہے مگر یہ سب عقائد باطل اور ناقابل قبول ہیں۔پہلا عقیدہ کہ سب انسان بری فطرت لے کر پید اہوئے ہیں ایک تو عوام الناس میں پایا جاتا ہے وہ کہتے ہیں بندہ بشر ہے اور اس با ت پر مجبور ہے کہ غلطی کرے مگر جب ہم بچہ کی فطرت پر نگاہ دوڑاتے ہیں توہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات غلط ہے بُری فطرت آخر بُرے اعمال سے ہی پہچانی جاسکتی ہے لیکن ہم جب بچوں کو دیکھتے ہیںتو ان میں یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ جھوٹ خود نہیں بولتے بلکہ دوسروں کو جھوٹ بولتے دیکھ کر اس مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اسی طرح کسی بچے میں ذاتی طور پر چوری کا مادہ یا خیانت کا مادہ یا اسی قسم کی اور برائیوں کا مادہ نہیں پایا