تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 259

کا نظارہ دکھاسکتا ہے۔ملائکہ اس کی مخلوق ہیں مگر وہ اس صفت میں انسان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔اسی طرح اور جس قدر مخلوق پائی جاتی ہے اس میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جو احسن تقویم ہونے کے لحاظ سے انسان کا مقابلہ کرسکے۔مثلاً وہی کام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا گیا جبریل نہیں کرسکتا تھا یا وہ کام جو اور انبیاء کے سپرد ہوا خدا تعالیٰ کے دوسرے ملائکہ سرانجام نہیں دے سکتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے موسٰی کو بھیجا، عیسٰیؑ کو بھیجا، دائودؑ اور سلیمانؑ اور ابراہیمؑ کو بھیجا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا مگر ملائکہ کو نہیں بھیجا کیونکہ انسان میں خدا نے اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ کی صفت رکھی تھی جو ملائکہ میں نہیں رکھی یعنی تربیت اور تعلیم اور اصلاح کا کام جو انسان کرسکتا ہے وہ ملائکہ یا خدا تعالیٰ کی کوئی اور مخلوق نہیں کرسکتی اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں سے انسان بحیثیت جماعت افضل ہے اور انسان کامل ملائکہ کے فرد کامل سے افضل ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ کے دو معنے غرض میرے نزدیک اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے انسان کو اس حالت میں پیدا کیا ہے کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ تقویم کرتا ہے یعنی دوسرے انسانوں اور دوسری مادی اشیاء کی تعلیم و تربیت اور تقدیر اور تصویر اور تخلیق نہایت اعلیٰ درجہ کی کرتا ہے گویا خدا نے انسان کو نہایت اعلیٰ درجہ کا روحانی اور جسمانی معلم بنایا ہے۔نہایت اعلیٰ درجہ کا روحانی اور جسمانی خالق بنایا ہے۔نہایت اعلیٰ درجہ کا روحانی اور جسمانی مربی بنایا ہے۔نہایت اعلیٰ درجہ کا روحانی اور جسمانی صنّاع بنایا ہے اور یہ ساری باتیں ایسی ہیں جن میں دوسری مخلوق پر اسے بہت بڑی فضیلت حاصل ہے۔یہ معنے ایسے ہیں جن سے قطعاً کوئی شرک لازم نہیں آتا۔جب یہ ایک حقیقت ہے جسے سب تسلیم کرتے ہیں کہ انسان بصیر بھی ہے، سمیع بھی ہے، رئووف بھی ہے، رحیم بھی ہے تو احسن تقویم کی صفت بھی اس میں ہوسکتی ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ ہم نے احسن تقویم کی صفت بھی انسان کوبخشی ہے اور اسے روحانی اور جسمانی خالق بنایا ہے کہ اس کی تربیت سے کامل انسان پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح دنیا میں وہ صنعت و حرفت کے بڑے بڑے کمالات دکھاتا ہے۔چنانچہ دنیا کے چار دور اس کے مصد ق ہیں۔اگر تم ان چاروں دوروں کو دیکھو تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے تربیت اور تعلیم اور تعدیل کی بہت بڑی قوت بخشی ہے۔آدمؑ آئے اور انہوں نے وہ اصلاح کی کہ سینکڑوں سال تک چلتی چلی گئی۔نوحؑ آئے اور وہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی پاکباز جماعت قائم کرکے دنیا پر اپنی اصلاح کے اَن مِٹ نقوش قائم کرگئے۔موسٰی آئے انہوں نے تعدیل القویٰ کیا اور ایسی اعلیٰ درجہ کی جماعت قائم کی کہ خدا کا جلال اور اس کا جمال اس جماعت کے ذریعہ دنیا پر ظاہر ہوگیا۔اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں ان کے ذریعہ بھی انسان کی یہ