تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 255
کوشش کرے۔صرف مجھے اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ میں قسراً مکہ کو فتح کروں مگر میرے لئے بھی یہ اجازت صرف چند گھڑیوں کے لئے تھی ہمیشہ کے لئے نہیں تھی۔یہ ایک طبعی بات ہے کہ لمبے عرصہ میں عارضی طور پر اگر کوئی واقعہ ہوجائے تو انسان اس کو نظرانداز کردیا کرتا ہے۔وہ شخص جو دس پندرہ سال تک تندرست رہے اگر ایک دن اسے بخار ہوجائے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ بیمار آدمی ہے کیونکہ یہ بیماری ایک لمبے عرصہ میں صرف تھوڑی سی دیر کے لئے اس پر آئی تھی۔اسی طرح بلدالامین میں اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ بے شک مکہ پر ایک ایسا حملہ مقدر ہے جو اس کی حلت کو توڑ دے اور بے شک ایک دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قسراً فتح کریں گے مگر اس سے یہ نہ سمجھنا کہ مکہ بلدالامین نہیں۔اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے امن دیا گیا ہے۔اس کی حرمت کو خدا تعالیٰ نے اپنے حکم سے قائم کیا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں قسراً داخلہ ایک وقتی چیز ہوگا جس کی اللہ تعالیٰ بعض پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے اجازت دے گا ورنہ مکہ بلدالامین تھا بلدالامین ہے اور بلدالامین رہے گا۔کوئی شخص اس کی حرمت کو توڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کرلیا تو اس کے بعد آپ نے اعلان فرمایا کہ یہ حملہ صرف میرے لئے مقدر تھا۔آج کے بعد کسی انسان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ مکہ کی حرمت کو توڑنے کی جرأت کرے۔پس چونکہ ایک زمانہ ابھی ایسا آنا تھا جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکہ کی حرمت کو توڑا جانا مقدر تھا اور خود خدا نے یہ کہنا تھا کہ تمہارے لئے مکہ پر حملہ کرنا جائز ہے اس لیے جب تک وہ موقعہ آکر گزر نہ جاتا مکہ کامل طور پر بلدالامین نہیں کہلا سکتا تھا۔بے شک وہ پہلے بھی بلدالامین تھا اور بعد میںبھی وہ بلدالامین رہا مگر چونکہ درمیان میں ایک وقفہ ایسا آنا تھا جس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت مکہ کو قسراًفتح کیا جانا مقدر تھا اس لیے کامل طور پرمکہ اگر بلدالامین کہلا سکتا تھا تو فتح مکہ کے بعد ہی نہ کہ اس سے پہلے۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو اس کے بعد آپ نے ہمیشہ کے لیے مکہ کی حرمت کو قائم فرما دیا بہرحال جب تک مکہ فتح نہیں ہوا تھا وہ کلی طور پر بلدالامین نہیں کہلا سکتا تھا کیونکہ ایک سانحہ موجود تھا جس میں اس کی حرمت کو ظاہری نگاہوں میں توڑا جانا تھا کلی طور پر اگر وہ بلدالامین قرار پایا توفتح مکہ کے بعد۔غرض یہ تینوں واقعات فتح مکہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔اگر ایمان کے لحاظ سے مکہ کے امن کو لو توفتح مکہ کے بعد اس میں سے شرک نکلا اور اگر جسمانی لحاظ سے مکہ کے امن کو لو تو فتح مکہ کے بعد کفار کے جورو ستم کا سلسلہ بند ہوا اور اگر مکہ کا مامون ہونا لو تب بھی فتح مکہ کے بعد اسے امن حاصل ہوا جب تک مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر فتح نہیں ہوا وہ کامل طور پر بلد الامین نہیں کہلا سکتا تھا کیونکہ ایک سانحہ ابھی