تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 247
کریں تو اس کے معنے ہمالیہ پہاڑ کے نہیں ہوسکتےلیکن اگر ہم کہیں ہمالیہ کا پہاڑ تو اس کے معنے ہوں گے وہ پہاڑ جسے ہمالیہ کہتے ہیں یا اگر ہم کہتے ہیں کشمیر کا پہاڑ یا ہزارہ کا پہاڑ یا افغانستان کا پہاڑ یا درہ خیبر کا پہاڑ تو اس کے بھی مخصوص معنے ہوں گے۔پس طور سینین کے یہ معنے ہوئے کہ سینا کا وہ پہاڑ جس پر موسیٰ علیہ السلام کا کوئی خاص واقعہ ہوا تھا۔وَالطُّوْرِ وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ میں انہی معنوں کو الف لام کی زیادتی سے ظاہر کیا گیاہے۔بعض مفسرین نے جو یہ سمجھا ہے کہ طور کسی پہاڑ کا نام ہے یہ درست نہیں۔طور کے معنے محض ایک پہاڑ کے ہیں اور انہیں معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے البتہ عرفِ عام میں بوجہ ایک خاص مناسبت کے اس نے مخصوص معنے پیدا کرلئے ہیں جیسے بعض دفعہ ایک چیز تو عام ہوتی ہے لیکن کسی خاص چیز کی طرف منسوب ہوتے ہوتے آخر اس کا ایک نام بن جاتی ہے۔مثلاً کتاب ایک عام لفظ ہے جو ہر کتاب کے متعلق استعمال ہوتا ہے لیکن ’’اَلْکِتَاب‘‘ ایک مخصوص لفظ ہے جو بائبل کے متعلق استعمال ہوتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اَلْکِتَاب کے معنے بائبل کے ہیں بلکہ بائبل کی طرف یہ لفظ منسوب ہوتے ہوتے اتنا عرصہ گزرچکا ہے اور اس قدر زبان زدِ خلائق ہوچکا ہے کہ اب اَلْکِتَاب کا لفظ جب بھی استعمال ہوگا یہی سمجھا جائے گا کہ اس سے بائبل مراد ہے۔یا مثلاً انجیل کے لفظی معنے بشارات کے ہیں اور شروع میں انہی معنوں میں انجیل کا لفظ استعمال ہوا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وہ بشارات جو آپ نے اپنی قوم کو دیں مگر اب انجیل کا لفظ بولو تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ زید کی بشارتیں یا بکر کی بشارتیں بلکہ ہر شخص کے ذہن میں فوراً یہ بات آجائے گی کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کتاب ہے۔حالانکہ لفظی معنے اس کے صرف بشارات کے ہیں۔اسی طرح طورِ سینین کے معنے ہیں سینا کا ایک پہاڑ مگر چونکہ سینا کے پہاڑ کا ذکر لوگوں کے زبان پر آتا ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اس لئے رفتہ رفتہ طور سے مخصوص طور پر وہی پہاڑ سمجھا جانے لگا جس پر یہ واقعہ ہوا تھا۔حالانکہ معنوں کے لحاظ سے طور ہر پہاڑ کو کہا جاسکتا ہے۔سینا کے متعلق میں بتاچکا ہوں کہ اس کی تعیین میں مؤرخین کو بہت کچھ اختلاف ہے۔بعض تو سینا نام کا کوئی علاقہ تسلیم ہی نہیں کرتے مگر بعض اس علاقہ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں مگر ان لوگوں میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے۔بعض کسی جگہ کو سینا قرار دیتے ہیں اور بعض کسی جگہ کو۔میرے خیال میں اس اختلاف کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کو یہ شوق ہوتا ہے کہ ہم کوئی جدید چیز پیدا کریں اور اس شوق کی وجہ سے وہ واقعات اور حقائق کو نظر انداز کرکے محض اپنی کسی تھیوری اور قیاس پر بنیاد رکھ کر ایک نئی بات لوگوں کے سامنے پیش کردیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس طرح ہم بھی موجد قرار پا جائیں گے۔ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ جب سنتے ہیں کہ فلاں نے یہ چیز ایجاد کی