تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 21
قرآن کریم کے مضامین بالکل خراب ہیں پھر بھی جب تک قرآن دنیا میں موجود ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ضُـحٰی دنیا میں موجود رہے گی۔جب دن کے وقت ایک شخص اپنے کمرے کے دروازے بند کر کے اندر بیٹھ رہتا ہے یا جب زمین چکر کھا کر سورج کو لوگوں کی نگاہ سے اوجھل کر دیتی ہے اُس وقت سورج کاوجود تو غائب نہیں ہوجاتا۔سورج بہر حال موجود ہوتا ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ زمین اس سے اپنی پیٹھ موڑ لے یا کوئی شخص اپنے کمرہ کے دروازے بند کر کے اس کی روشنی کو اندر داخل نہ ہونے دے۔اسی طرح وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا میں بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضُـحٰی والے وجود ہیں چاہے تم اس نور سے فائدہ اٹھائو یا نہ اٹھائو ان کا نور بہر حال ظاہر ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ دنیا ایک دن تسلیم کرے گی کہ آپ حقیقت میں روحانی سورج تھے پس دنیا ان کے سامنے آئے یا نہ آئے اس کا کوئی سوال نہیں۔دنیا اس شمس کے سامنے آئے گی تو منور ہو جائے گی اور اگر نہ آئے گی تو یہ شمس بہر حال شمس ہے اس کی ضحی پر اس بات کا کوئی اثر نہیںہو سکتا کہ لوگوں نے اس کی طرف سے اپنی پیٹھ موڑلی ہے۔فرض کرو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک آدمی بھی ایمان نہ لاتا تو اس سے کیا ہو سکتا تھا جو روحانی اور اخلاقی تعلیمات آپ نے دی ہیں، جو سیاسی تعلیمات آپ نے دی ہیں، جو اقتصادی تعلیمات آپ نے دی ہیں،جو عائلی تعلیمات آپ نے دی ہیں، جو تمدنی تعلیمات آپ نے دی ہیں، جو علمی تعلیمات آپ نے دی ہیں ان سے بہرحال آپ کا شمس ہونا ظاہر ہو جاتا۔جب ایک وجود کو خدا تعالیٰ نے شمس بنا کر بھیجا تو خواہ مکہ والے آپ پر ایمان نہ لاتے۔اہل عرب آپ کو سچا تسلیم نہ کرتے وہ یہ تو کہہ سکتے تھے کہ اس شمس سے نہار پیدا نہیں ہوا، دنیا نے اس سورج سے روشنی اخذ نہیں کی مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ شمس، شمس نہیں تھا۔جب ایک شخص نئی شریعت لاتا ہے تو خواہ ہزار سال کے بعد لوگ اسے مانیں بہر حال اس کا شمس ہوناپہلے دن سے ہی ثابت ہوتا ہے۔یہ تو ہم کہیں گے کہ دنیا اس کے سامنے دو سو سال کے بعد آئی یا ہزار سال کے بعد آئی مگر یہ نہیں کہیں گے کہ وہ شمس اپنی ذات میں ایک روشن وجود نہیں تھا پس وَالشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا میں بتایا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات میں ایسا نور رکھتے ہیں کہ تم چاہے مانو یا نہ مانو ان کا کچھ بگڑ نہیں سکتا۔پھر فرماتا ہے وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا یعنی آپ کے بعد بعض اور وجودبھی آئیں گے جو قمر کی حیثیت رکھیں گے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف ایسے شمس ہیں جو اپنی ذات میں روشن اور پُر انوار ہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے آپ کے نور سے اکتساب کرنے کے لئے بعض قمر بھی پیدا کر دئیے ہیں جو ہر زمانہ میں اِن کے نور کو دنیا میں پھیلاتے رہیں گے گویا اوّل تو یہ اپنی ذات میںسورج ہے پھر یہ ایسا سورج ہے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ری فلیکٹر بھی پیدا کر دئیے