تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 242

مگر آخر کیا ہوا۔وہی ہجرت اس کی کامیابی کا ذریعہ بن گئی۔اور اس نے تین کے پتے اپنے اردگرد لپٹا کر دشمن کو اس کی تدابیر میں ناکام کردیا۔اسی طرح اب بھی تم سجھو گے کہ ہم کامیاب ہوگئے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں سے نکال دیا۔مگر آخریہی ہجرت تمہاری تباہی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کا ذریعہ ہوگی اور اس طرح ثابت ہوجائے گا کہ خدا نے انسان کو چھوڑنے کے لئے نہیں بنایا بلکہ ترقی کرنے کے لئے بنایا ہے۔زیتون کی شہادت سے مراد حضرت نوح علیہ السلام کی ہجرت کا واقعہ ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الزَّيْتُوْنِ دوسری مثال ہم زیتون کی دیتے ہیں۔زیتون کی مثال نوحؑ کا واقعہ ہے۔نوحؑ کو اس کی قوم نے سخت تنگ کیا اور آخر ایک عذاب عظیم آیا جس کی وجہ سے نوحؑ کی قوم تباہ ہوئی اور نوح کو اپنا وطن چھوڑناپڑا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ اُوْحِيَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ۔وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ۔وَ يَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ۔فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَ يَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۔حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلٌ۔وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔وَ هِيَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ ا۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِيْ مَعْزِلٍ يّٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ۔قَالَ سَاٰوِيْۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ۔وَ قِيْلَ يٰۤاَرْضُ ابْلَعِيْ مَآءَكِ وَ يٰسَمَآءُ اَقْلِعِيْ وَ غِيْضَ الْمَآءُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِيِّ وَ قِيْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۔(ھود: ۳۷تا۴۵)یعنی نوحؑ کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے جو پہلے ایمان لاچکے ہیں ان کے سوا اور کوئی لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔پس تو ان کے فعل پر غمگین مت ہو اور اس بات کا کچھ خیال نہ کر کہ وہ تجھ پر کیوں ایمان نہیں لاتے۔تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے حکم اور وحی سے ایک کشتی بنا اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے خطاب کرنا چھوڑ دے کیونکہ ان کے متعلق الٰہی فیصلہ یہ ہے کہ وہ غرق کئے جائیں گے۔نوحؑ نے ہمارے اس حکم کے مطابق کشتی بنانی شروع کردی۔لوگ وہاں سے گزرتے تو ہنسی اور مذاق کرتے کہ دیکھو خشکی میں کشتی چلانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔حضرت نوحؑ ان کو جواب میں کہتے کہ تم بے شک ہنسی کرلو ایک دن آئے گاجب اللہ تعالیٰ تم کو تباہ کردے گا اور تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر