تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 241
فریب میں آگئے۔ان لوگوں سے تعلقات پیدا کئے اور نقصان اٹھایا۔تب اللہ تعالیٰ سے ہدایت پاکر آپ نے انجیر کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانکنا شروع کردیا یعنی مومنوں کو اپنے گرد جمع کرنے لگے اور کفار سے قطع تعلق کرلیا۔اس طرح جنت سے نکلنے کی جو تکلیف پہنچی تھی یعنی آپ کو جو ہجرت کرنی پڑی تھی اس کا ازالہ ہوگیا۔بظاہر شیطان کی فتح ہوئی مگر دراصل آدم کی ہوئی۔کیونکہ اس کو قومی تنظیم کا خاص خیال پیدا ہوگیا اور بجائے گرنے کے ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَ هَدٰى (طٰہٰ:۱۲۳)کے سامان پیدا ہوگئے۔پس فرمایا کہ ایک تو تین کے واقعہ کو لو کہ شیطان نے آدم کو دھوکا دیا اور اس کے نتیجہ میں آدم کو ہجرت کرنی پڑی اور جس ارضی جنت میں وہ رہتے تھے اسے چھوڑنا پڑا مگر اسی ہجرت کے نتیجہ میں ایک مومنوں کی جماعت آدم کے گرد جمع ہوگئی اور ان کی مدد سے آدم نے شیطان کی تدبیر کو پاش پاش کرکے رکھ دیا۔اے مکہ والو اب تم بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی کرنے والے ہو مگر یاد رکھو اب بھی وہی ہوگا جو آدم کے وقت میں ہوا تھا۔تین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقص کو ڈھانپ لے گی اور ہجرت ہی کے نتیجہ میں ایک صلحاء کی جماعت آپ کے گرد جمع ہوجائے گی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو یہ کہا تھا کہ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ (طٰہٰ:۲۶) مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۔اسی طرح آدم کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ آدم نے تین کے پتوں کو اپنے گرد جمع کرنا شروع کیا اور اس طرح اپنے ننگ کو ڈھانکا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تین کے پتے خودبخود آپ کی طرف بڑھے اور جنگ بدر کے وقت انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ہم موسٰی کے ان ساتھیوں کی طرح نہیں جنہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ تو اور تیرا رب دونوں جائو اور دشمن سے لڑتے پھرو۔بلکہ یارسول اللہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔(صحیح بـخاری کتاب المغازی باب قولہٖ تعالٰی اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ۠ رَبَّكُمْ ) یہ کتنا بڑا فرق ہے جو آدم اوّل اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں پایا جاتا ہے۔آدم کو تو خود اپنی جدوجہد سے تین کے پتے اپنے اردگرد لپٹانے پڑے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ چونکہ آدمؑ سے بہت بلند تھا اس لئے آپ سے تین کے پتے خود بخود چمٹنے لگ گئے۔پس فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ ہجرت کے نتیجہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شکست کھاجائیں گے اور تم فتح حاصل کرلو گے۔پہلے بھی ایسا کئی بار ہوچکا ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو شکست دینی چاہی مگر ہمیشہ اس نے منہ کی کھائی۔چنانچہ آدم کی مثال تمہارے سامنے ہے۔شیطان نے اسے جنت سے نکالا اور وہ چلا گیا