تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 240

اپنے ساتھ نہیں ملا سکتے ہمارا راستہ خدا نے اور مقرر کیا ہے اور تمہارا راستہ اور ہے۔یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ ہماری جماعت مداہنت سے کام لے اور تمہاری ہاں میں ہاں ملاتی چلی جائے۔چنانچہ اس واقعہ کے بعد خدا نے ہمیشہ کے لئے یہ قانون مقرر کردیا کہ مومنوں کی جماعت کفار سے ہمیشہ علیحدہ رہے گی۔جب تک شیطان نے یہ فعل نہیں کیا تھا اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف اتنی ہدایت تھی کہ شیطان کے دھوکا میں نہ آنا مگر آدمؑ کے اس واقعہ نے ہمیشہ کے لئے یہ رسم قائم کردی کہ انبیاء کی جماعتوں کو شیطانی لوگوں سے الگ رہنا چاہیے۔بعض احکام ایسے ہوتے ہیں جوبظاہر نئے دکھائی دیتے ہیں مگر درحقیقت وہ نئے نہیں ہوتے۔مثلاً ہماری جماعت کے افراد کو یہ حکم ہے کہ وہ غیروںکے پیچھے نمازیں نہ پڑھیں، ان کو رشتے نہ دیں، ان کے جنازے نہ پڑھیں۔لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسے سخت احکام جماعت کو کیوں دیئے جاتے ہیں مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ احکام نئے نہیں بلکہ وہی ہیں جن کا آدم کے وقت سے آغاز ہوچکا ہے۔جب تک شیطان نے آدم کو دھوکا نہیں دیا اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ احکام نازل نہیں ہوئے۔مگر جب شیطان ایک دفعہ آدم کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوگیا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ قانون مقرر کردیا کہ الٰہی جماعتوں کو اپنے مخالفوں سے علیحدہ رہنا چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ ہر نبی جو دنیا میں آیا اس نے اپنی جماعت کودوسروں سے علیحدہ رکھا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ کوئی نبی آیا ہو اور اس نے اپنی جماعت کو یہ اجازت دے دی ہو کہ وہ غیروں سے مل جل کر رہے۔حضرت آدم علیہ السلام کی شیطان کے مقابل پر فتح غرض شیطان نے آدم کو جنت سے نکالنے کا سامان کیا اور آدم کو جنت سے ہجرت کرنی پڑی مگر اس کے بعد خدا نے جو اسے تین نصیب کی وہ اسے اس قدر کامیاب کرنے والی ثابت ہوئی کہ آج دنیا میں ابلیس کو ماننے والا تو کوئی نظر نہیں آسکتا مگر آدم کو ماننے والے ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ آدم کا ننگ انجیر کے پتوں سے ڈھانکا گیا تھا جو درحقیت تمثیلی زبان میںایک الہام تھا جسے یہود نے سمجھا نہیں اور فی الواقعہ ننگا ہونا اور انجیر کے پتوں سے ڈھانکناسمجھ لیا۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک درخت سے یعنی اُسی سانپ سے اور اُس کے ساتھیوں سے تعلق رکھنے سے منع فرمایا جو جنات میں سے تھا (سانپ زیر زمین رہتاہے اور یہ شخص بھی، کیو مین CAVEMAN تھایعنی زیر زمین رہنے والا) اس نے آکر دھوکا دیا کہ ہمارا پھل کھانے سے یعنی ہمارے ساتھ تعلقات پیدا کرنے سے فائدہ ہی ہے اور خدا تعالیٰ کا بھی تو اصل منشاء تم کو فائدہ پہنچانا ہے اب ہم جو صلح کرکے ملتے ہیں تو وہ مقصد بدرجۂ اتم پورا ہوجائے گا۔آدم اس کے