تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 238

ہوگیا اور اس فعل کے برے نتائج ان پر روشن ہوگئے۔جب آدم کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہیں معلوم ہوا کہ شیطان کی طرف صلح اور محبت کاہاتھ بڑھا کر انہوںنے خطرناک غلطی کی ہے تو اس غلطی کے ازالہ کے لئے طَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ انہوں نے جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانکنا شروع کردیا۔وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى اور آدم نے خدا کے حکم کی نافرمانی کی تھی جس سے وہ تکلیف میں مبتلا ہوا۔ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ مگر پھر خدا نے اسے بزرگی دے دی اور اس نے ورق الجنۃ سے اپنے آپ کو ڈھانکنا شروع کردیا اور خدا تعالیٰ نے اسے وہ راستہ دکھادیا جو اسے اور اس کی جماعت کو کامیابی کی منزل کی طرف لے جانے والا تھا۔اب دیکھو یہاں شیطان نے آدم کو دھوکا دے کر بظاہر اسے شکست دے دی تھی مگر آدم نے فوراً ورق الجنۃ سے اپنے آپ کو ڈھانکنا شروع کردیا اس کی شکست فتح سے بدل گئی اور آخر آدم ہی کامیاب رہا۔ورق کے معنے زینت کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے اَلْوَرَقُ: جَـمَالُ الدُّنْیَا وَ بَـھْجَتُـھَا کہ دنیا کی خوبصورتی اور اس کے حسن کو ورق کہتے ہیں۔اسی طرح ورق کے معنے نسل کے بھی ہیں۔چنانچہ عربی زبان کا محاورہ ہے اَنْتَ طَیِّبُ الْوَرَقِ اور اس محاورہ سے مراد یہ ہوتی ہے کہ تو طَیِّبُ النَّسْل ہے ان دونوں محاوروں کے لحاظ سے طَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ کے معنے یہ ہوئے کہ آدم نے جنت کی زینت اور جمال سے اپنے آپ کو ڈھانکنا شروع کردیا اور جنت کاجمال اس کے مومن ساکنین ہوتے ہیں۔اسی طرح دوسرے معنوں کی رو سے اس آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ آدم نے پاکیزہ نسل کے ذریعہ سے شیطانی فریب کا ازالہ کرنا شروع کیا اور وہ کامیاب ہوگیا۔انجیر کے پتوں سے مراد صلحاء کی جماعت اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وَرَقِ الْجَنَّةِ کا تعلق انجیر سے کیا ہوا۔ہر ایک درخت کے پتے وَرَقِ الْجَنَّةِ کہلا سکتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل ہم علم تعبیرالرئویا کو دیکھتے ہیں تو اس میں لکھاہے کہ اَلتِّیْنُ فِی الْمَنَامِ یُفَسَّـرُ بِالصُّلَحَاءِ وَ خِیَارِالنَّاسِ (تعطیر الانام فی تعبیر المنام زیر لفظ ’’التین‘‘)یعنی جب کوئی شخص رئویا یا کشف کی حالت میں انجیر کا درخت دیکھے تو اس کے معنے صالح اور نیک لوگوں کے ہوتے ہیں۔یہی وَرَقِ الْجَنَّةِ کے معنے تھے کیونکہ ورق پاکیزہ نسل کو کہتے ہیں اور وَرَقِ الْجَنَّةِ کے معنے تھے جنت کی پاکیزہ نسل اور جنتی نسل صلحاء اور مومن لوگ ہی ہوتے ہیں۔پس وَرَقِ الْجَنَّةِ کا ترجمہ تعبیر الرئویا کے مطابق انجیر کے پتے ہوا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا آدم کے واقعہ کے ساتھ خصوصیت سے انجیر کا کوئی تعلق ہے یا نہیں۔اس غرض کے لئے جب ہم بائبل کو دیکھتے ہیں تو اس میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں۔’’اور سانپ میدان کے سب جانوروں سے جنہیں خداوند خدا نے بنایا تھا ہوشیا رتھا۔اور